آندھیاں آتی تھیں لیکن کبھی ایسا نہ ہوا
خوف کے مارے جدا شاخ سے پتا نہ ہوا
روح نے پیرہن جسم بدل بھی ڈالا
یہ الگ بات کسی بزم میں چرچا نہ ہوا
رات کو دن سے ملانے کی ہوس تھی ہم کو
کام اچھا نہ تھا انجام بھی اچھا نہ ہوا
وقت کی ڈور کو تھامے رہے مضبوطی سے
اور جب چھوٹی تو افسوس بھی اس کا نہ ہوا
خوب دنیا ہے کہ سورج سے رقابت تھی جنہیں
ان کو حاصل کسی دیوار کا سایہ نہ ہوا
شہریار
Aandhiyan aati thin lekin kabhi aisa na hua
Khauf ke maare juda shakh se patta na hua
Rooh ne pairahan jism badal bhi dala
Yeh alag baat kisi bazm mein charcha na hua
Raat ko din se milane ki hawas thi hum ko
Kaam achha na tha anjaam bhi achha na hua
Waqt ki dor ko thame rahe mazbooti se
Aur jab chhooti to afsos bhi is ka na hua
Khub duniya hai ke suraj se raqabat thi jinhein
Un ko hasil kisi deewar ka saya na hua
کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...
مکمل تعارف پڑھیں