شہریار — شاعر کی تصویر

نہیں روک سکو گے جسم کی ان پروازوں کو — شہریار

شاعر

تعارف شاعری

نہیں روک سکو گے جسم کی ان پروازوں کو

نہیں روک سکو گے جسم کی ان پروازوں کو
بڑی بھول ہوئی جو چھیڑ دیا کئی سازوں کو
کوئی نیا مکین نہیں آیا تو حیرت کیا
کبھی تم نے کھلا چھوڑا ہی نہیں دروازوں کو
کبھی پار بھی کر پائیں گی سکوت کے صحرا کو
درپیش ہے کتنا اور سفر آوازوں کو
مجھے کچھ لوگوں کی رسوائی منظور نہیں
نہیں عام کیا جو میں نے اپنے رازوں کو
کہیں ہو نہ گئی ہو زمین پرندوں سے خالی
کھلے آسمان پر دیکھتا ہوں پھر بازوں کو

Nahin rok sako ge jism ki in parwaazon ko

Nahin rok sako ge jism ki in parwaazon ko
Badi bhool hui jo chhed diya kai saazon ko
Koi naya makin nahin aaya to hairat kya
Kabhi tum ne khula chhoda hi nahin darwaazon ko
Kabhi paar bhi kar paayengi sukoot ke sehra ko
Darpesh hai kitna aur safar awaazon ko
Mujhe kuch logon ki ruswai manzoor nahin
Nahin aam kiya jo main ne apne raazon ko
Kahin ho na gayi ho zameen parindon se khali
Khule asman par dekhta hoon phir baazuon ko

شاعر کے بارے میں

شہریار

کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام