شہریار — شاعر کی تصویر

تیری سانسیں مجھ تک آتے بادل ہو جائیں — شہریار

شاعر

تعارف شاعری

تیری سانسیں مجھ تک آتے بادل ہو جائیں

تیری سانسیں مجھ تک آتے بادل ہو جائیں
میرے جسم کے سارے علاقے جل تھل ہو جائیں
ہونٹ ندی سیلاب کا مجھ پہ دروازہ کھولے
ہم کو میسر ایسے بھی اک دو پل ہو جائیں
دشمن دھند ہے کب سے میری آنکھوں کے درپئے
ہجر کی لمبی کالی راتیں کاجل ہو جائیں
عمر کا لمبا حصہ کر کے دانائی کے نام
ہم بھی اب یہ سوچ رہے ہیں پاگل ہو جائیں

Teri saansein mujh tak aate badal ho jaayen

Teri saansein mujh tak aate badal ho jaayen
Mere jism ke saare ilaqe jal thal ho jaayen
Honth nadi sailaab ka mujh pe darwaza khole
Hum ko mayassar aise bhi ek do pal ho jaayen
Dushman dhund hai kab se meri aankhon ke darpay
Hijr ki lambi kaali raaten kaajal ho jaayen
Umar ka lamba hissa kar ke danai ke naam
Hum bhi ab yeh soch rahe hain pagal ho jaayen

شاعر کے بارے میں

شہریار

کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام