شہریار — شاعر کی تصویر

زخموں کو رفو کر لیں دل شاد کریں پھر سے — شہریار

شاعر

تعارف شاعری

زخموں کو رفو کر لیں دل شاد کریں پھر سے

زخموں کو رفو کر لیں دل شاد کریں پھر سے
خوابوں کی کوئی دنیا آباد کریں پھر سے
مدت ہوئی جینے کا احساس نہیں ہوتا
دل ان سے تقاضا کر بیداد کریں پھر سے
مجرم کے کٹہرے میں پھر ہم کو کھڑا کر دو
ہو رسم کہن تازہ فریاد کریں پھر سے
اے اہل جنوں دیکھو زنجیر ہوئے سائے
ہم کیسے انہیں سوچو آزاد کریں پھر سے
اب جی کے بہلنے کی ہے ایک یہی صورت
بیتی ہوئی کچھ باتیں ہم یاد کریں پھر سے

Zakhmon ko rafu kar lein dil shad karein phir se

Zakhmon ko rafu kar lein dil shad karein phir se
Khwabon ki koi duniya abad karein phir se
Muddat hui jeene ka ehsaas nahin hota
Dil un se taqaza kar bedaad karein phir se
Mujrim ke katghare mein phir hum ko khada kar do
Ho rasm-e-kuhan taza faryad karein phir se
Aye ahl-e-junoon dekho zanjeer hue saaye
Hum kaise unhein socho azad karein phir se
Ab jee ke behalne ki hai ek yahi soorat
Beetti hui kuchh baatein hum yaad karein phir se

شاعر کے بارے میں

شہریار

کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام