عبدالحمیدعدم

شاعر

تعارف شاعری

ایک حکایت تھرا اٹھی ایک فسانہ جاگ اٹھا

ایک حکایت تھرا اٹھی ایک فسانہ جاگ اٹھا
اس نے جدھر کو ہنس کر دیکھا حیرت خانہ جاگ اٹھا
میرے جنوں نے چپ سادھی تھی اس کی نظر پھر ہنسنے لگی
اک دیوانہ سویا ہی تھا اک دیوانہ جاگ اٹھا
ایک گھٹا لہرا کے اٹھی اس صبر شکن کیفیت سے
بے نیت سی نیت میں اک گرم بہانہ جاگ اٹھا
رات بہت بے وقت عدمؔ ہم جا نکلے مے خانے کو
پھر بھی بھاری دستک سن کر اک پیمانہ جاگ اٹھا

عبدالحمیدعدم