عبدالحمیدعدم

شاعر

تعارف شاعری

ایسا نیازِ عشق نے سادہ بنا دیا

ایسا نیازِ عشق نے سادہ بنا دیا
ہم اس کے ہو گئے ہمیں جسکا بنا دیا
تقدیر نے، فلک نے،محبت نے عشق نے
جس نے بھی چاہا میرا تماشہ بنا دیا
ویرانیاں سمیٹ کر سارے جہان کی
جب کچھ نہ بن سکا تو میرا دل بنا دیا
اب تم مرے بنو نہ بنو تم کو ہے اختیار
تقدیر نے تو مجھ کو تماشہ بنا دیا
ہوتا خدا کا عشق تو بن جاتا اور کچھ
بندے کے عشق نے مجھے بندہ بنا دیا
دنیا تیرے وجود کو کرتی رہی تلاش
ہم نے تیرے خیال کو یزداں بنا دیا
سرمہ سمجھ کہ آنکھ میں دی غیر کو جگہ
آنسو سمجھ کہ آنکھ سے ہم کو گرا دیا

عبدالحمیدعدم