عبدالحمیدعدم

شاعر

تعارف شاعری

دل تھا کہ پھول بن کے بکھرتا چلا گیا

دل تھا کہ پھول بن کے بکھرتا چلا گیا
تصویر کا جمال ابھرتا چلا گیا
شام آئی اور آئی کچھ اس اہتمام سے
وہ گیسوئے دراز بکھرتا چلا گیا
غم کی لکیر تھی کہ خوشی کا اداس رنگ
ہر نقش آئینے میں ابھرتا چلا گیا
ہر چند راستے میں تھے کانٹے بچھے ہوئے
جس کو تیری طلب تھی گزرتا چلا گیا
جب تک تری نگاہ نے توفیق دی مجھے
میں تیری زلف بن کے سنورتا چلا گیا
دو ہی تو کام تھے دل ناداں کو اے عدمؔ
جیتا چلا گیا کبھی مرتا چلا گیا

عبدالحمیدعدم