کاش اتفاق سے کبھی لب تو ہلائے دوست
دل بھی براے دوست ہے جاں بھی براے دوست
دل میں عجب سکون سا ہوتا ہے موجزن
آتی ہے گاہ گاہ کہیں سے صدائے دوست
اب انتخاب ہو بھی تو کیا انتخاب ہو
دوزخ ادائے دوست ہے جنت رضائے دوست
یارو شباب موسم گل اور یہ بے حسی
لاؤ ذرا سی گرمی رنگ قبائے دوست
ہم کہہ رہے ہیں روٹھا ہوا یار ہی ملے
ہم بے ادب نہیں کہ کہیں مسکرائے دوست
ساغر عدمؔ اٹھاؤں کہ پہلے وضو کریں
یہ بھی رضائے دوست ہے وہ بھی رضائے دوست
عبدالحمیدعدم