عبدالحمیدعدم

شاعر

تعارف شاعری

کیوں رنگ اڑ رہا ہے دل بے قرار کا

کیوں رنگ اڑ رہا ہے دل بے قرار کا
شاید یہ رہنے والا نہیں اس دیار کا
کھلنے لگا تھا پھول کہ مرجھا کے گر گیا
کیا تنگ حوصلہ تھا ہوائے بہار کا
لو جا رہا ہوں قید عناصر کو توڑ کر
پہلا نبوت ہے یہ مرے اختیار کا
پیتا ہوں حادثات کے عرفان کے لیے
مے ایک تجزیہ ہے غم روزگار کو
ساقی حدیث کوثر و تسنیم سب غلط
ساغر چھلک گیا تھا کسی میگسار کا
دھوکا دیا ہے تم نے عدمؔ کے خلوص کو
یہ راستہ نہیں تھا تمہارے دیار کا

عبدالحمیدعدم