کلامِ شاعر
- 01 دل نیں پکڑی ہے یار کی صورت
- 02 کس کی رکھتی ہیں یہ مجال انکھیاں
- 03 نہیں گھر میں فلک کے دل کشائی
- 04 کیا بری طرح بھوں مٹکتی ہے
- 05 گناہ گاروں کی عذر خواہی ہمارے صاحب قبول کیجے
- 06 خورشید رو کے آگے ہو نور کا سوالی
- 07 نپٹ یہ ماجرا یارو کڑا ہے
- 08 کیوں ملامت اس قدر کرتے ہو بے حاصل ہے یہ
- 09 آج یاروں کو مبارک ہو کہ صبح عید ہے
- 10 شوق بڑھتا ہے مرے دل کا دل افگاروں کے بیچ
- 11 یار روٹھا ہے ہم سیں منتا نہیں
- 12 ہمارے سانولے کوں دیکھ کر جی میں جلی جامن
- 13 اگر انکھیوں سیں انکھیوں کو ملاؤ گے تو کیا ہوگا
- 14 مت غضب کر چھوڑ دے غصہ سجن
- 15 زندگانی سراب کی سی طرح
- 16 اور واعظ کے ساتھ مل لے شیخ
- 17 رکھے کوئی اس طرح کے لالچی کو کب تلک بہلا
- 18 ہم نیں سجن سنا ہے اس شوخ کے دہاں ہے
- 19 عشق ہے اختیار کا دشمن
- 20 دلی کے بیچ ہائے اکیلے مریں گے ہم
- 21 بہار آئی گلی کی طرح دل کھول
- 22 بڑھے ہے دن بدن تجھ مکھ کی تاب آہستہ آہستہ
- 23 اس زلف جاں کوں صنم کی بلا کہو
- 24 کماں ہوا ہے قد ابرو کے گوشہ گیروں کا
- 25 سرسوں لگا کے پاؤں تلک دل ہوا ہوں میں