search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
آبرو شاہ مبارک
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
دل نیں پکڑی ہے یار کی صورت
کس کی رکھتی ہیں یہ مجال انکھیاں
نہیں گھر میں فلک کے دل کشائی
کیا بری طرح بھوں مٹکتی ہے
گناہ گاروں کی عذر خواہی ہمارے صاحب قبول کیجے
خورشید رو کے آگے ہو نور کا سوالی
نپٹ یہ ماجرا یارو کڑا ہے
کیوں ملامت اس قدر کرتے ہو بے حاصل ہے یہ
آج یاروں کو مبارک ہو کہ صبح عید ہے
شوق بڑھتا ہے مرے دل کا دل افگاروں کے بیچ
یار روٹھا ہے ہم سیں منتا نہیں
ہمارے سانولے کوں دیکھ کر جی میں جلی جامن
اگر انکھیوں سیں انکھیوں کو ملاؤ گے تو کیا ہوگا
مت غضب کر چھوڑ دے غصہ سجن
زندگانی سراب کی سی طرح
اور واعظ کے ساتھ مل لے شیخ
رکھے کوئی اس طرح کے لالچی کو کب تلک بہلا
ہم نیں سجن سنا ہے اس شوخ کے دہاں ہے
عشق ہے اختیار کا دشمن
دلی کے بیچ ہائے اکیلے مریں گے ہم
بہار آئی گلی کی طرح دل کھول
بڑھے ہے دن بدن تجھ مکھ کی تاب آہستہ آہستہ
اس زلف جاں کوں صنم کی بلا کہو
کماں ہوا ہے قد ابرو کے گوشہ گیروں کا
سرسوں لگا کے پاؤں تلک دل ہوا ہوں میں