کلامِ شاعر
- 01 یہی نہیں کہ زخم جاں کو چارہ جو ملا نہیں
- 02 ایک موہوم اضطراب سا ہے
- 03 گھر کا رستہ بھی ملا تھا شاید
- 04 ہر گام سنبھل سنبھل رہی تھی
- 05 نگاہ اوٹ رہوں کاسۂ خبر میں رہوں
- 06 آگے حریم غم سے کوئی راستہ نہ تھا
- 07 ویسے ہی خیال آ گیا ہے
- 08 چھپ نہ سکے گی دل کی دھڑکن
- 09 ذکراُن کا ا بھی ہو بھی نہ بایا ہے زباں سے
- 10 نقش بر آب
- 11 وہ جو جلووں اوٹ چھپا ہے
- 12 اعتذار
- 13 خود حجابوں سا خود جمال سا تھا
- 14 کانٹا سا جو چبھا تھا وہ لو دے گیا ہے کیا
- 15 شکست ساز
- 16 کیوں
- 17 چاک دل بھی کبھی سلتے ہوں گے
- 18 ہر شخص پریشان سا حیراں سا لگے ہے
- 19 جو چراغ سارے بجھا چکے انہیں انتظار کہاں رہا
- 20 گلوں سی گفتگو کریں قیامتوں کے درمیاں
- 21 توفیق سے کب کوئی سروکار چلے ہے
- 22 اجالا دے چراغ رہ گزر آساں نہیں ہوتا
- 23 ایک آئینہ رو بہ رو ہے ابھی
- 24 شاید ابھی ہے راکھ میں کوئی شرار بھی
- 25 بیگانگئ طرز ستم بھی بہانہ ساز
- 26 اچانک دل ربا موسم کا دل آزار ہو جانا
- 27 احوال ایک سفر کا
- 28 خامشی سے ہوئی فغاں سے ہوئی
- 29 کوئی سنگ رہ بھی چمک اٹھا تو ستارۂ سحری کہا
- 30 آخری ٹیس آزمانے کو
- 31 کیا جانئے کس بات پہ مغرور رہی ہوں
- 32 جب دل کی رہ گزر پہ ترا نقش پا نہ تھا
- 33 ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے
- 34 وہی ناصبوریِ آرزو ، وہی نقشِ پا، وہی جادہ ہے
- 35 یہ فخر تو حاصل ہے برے ہیں کہ بھلے ہیں