search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
ادا جعفری
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
یہی نہیں کہ زخم جاں کو چارہ جو ملا نہیں
ایک موہوم اضطراب سا ہے
گھر کا رستہ بھی ملا تھا شاید
ہر گام سنبھل سنبھل رہی تھی
نگاہ اوٹ رہوں کاسۂ خبر میں رہوں
آگے حریم غم سے کوئی راستہ نہ تھا
ویسے ہی خیال آ گیا ہے
چھپ نہ سکے گی دل کی دھڑکن
ذکراُن کا ا بھی ہو بھی نہ بایا ہے زباں سے
نقش بر آب
وہ جو جلووں اوٹ چھپا ہے
اعتذار
خود حجابوں سا خود جمال سا تھا
کانٹا سا جو چبھا تھا وہ لو دے گیا ہے کیا
شکست ساز
کیوں
چاک دل بھی کبھی سلتے ہوں گے
ہر شخص پریشان سا حیراں سا لگے ہے
جو چراغ سارے بجھا چکے انہیں انتظار کہاں رہا
گلوں سی گفتگو کریں قیامتوں کے درمیاں
توفیق سے کب کوئی سروکار چلے ہے
اجالا دے چراغ رہ گزر آساں نہیں ہوتا
ایک آئینہ رو بہ رو ہے ابھی
شاید ابھی ہے راکھ میں کوئی شرار بھی
بیگانگئ طرز ستم بھی بہانہ ساز
اچانک دل ربا موسم کا دل آزار ہو جانا
احوال ایک سفر کا
خامشی سے ہوئی فغاں سے ہوئی
کوئی سنگ رہ بھی چمک اٹھا تو ستارۂ سحری کہا
آخری ٹیس آزمانے کو
کیا جانئے کس بات پہ مغرور رہی ہوں
جب دل کی رہ گزر پہ ترا نقش پا نہ تھا
ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے
وہی ناصبوریِ آرزو ، وہی نقشِ پا، وہی جادہ ہے
یہ فخر تو حاصل ہے برے ہیں کہ بھلے ہیں