گری وہ چرخ سے بجلی جلا وہ آشیاں اپنا
مٹا وہ دیکھتے ہی دیکھتے نام و نشاں اپنا
میں سجدہ اس کشاکش میں کبھی کر ہی نہیں سکتا
ادھر دیر و حرم اپنے ادھر وہ آستاں اپنا
خدا شرمائے ایسے ارتباط اہل دنیا کو
کہ جو ہے رازداں ان کا وہی ہے رازداں اپنا
کوئی کیوں طور پر خندہ زن ذوق نظر ہوتا
کلیم اپنی جگہ کرنا تھا پہلے امتحاں اپنا
مجھے کیا وہ غم دنیا ہو یا افتاد محشر ہو
نہ کوئی ہے یہاں اپنا نہ کوئی ہے وہاں اپنا
یہ منظر سوختہ جانوں کے ہے پیش نظر ہر دم
کہ جیسے سامنے وہ جل رہا ہے آشیاں اپنا
دم رخصت بس اتنی آرزو ہے اے چمن والو
ہمارے آشیانے کو سمجھنا آشیاں اپنا
کوئی حد بھی ہے اس ذوق تن آسانی کی اے افقرؔ
اجل کا خواب اب تو ہو گیا خواب گراں اپنا
افقر موہانی