نزع کی ہچکی مریض ہجر کی دم ساز ہے
سننے والے غور سے سن آخری آواز ہے
لاکھ اے زاہد نشاط جاں ارم کا راز ہے
جلوہ گاہ ناز پھر بھی جلوہ گاہ ناز ہے
کون جان آرزو محو خرام ناز ہے
ذرہ ذرہ میرے دل کا فرش پا انداز ہے
مختلف نغمے ہیں لیکن ایک ہی آواز ہے
ہستئ دل ایک نیرنگ طلسم ساز ہے
بے نیاز جذب الفت انتقام عشق دیکھ
دل تھا پہلے بزم میں اب دل ہی بزم ناز ہے
دیکھ کر پامال کرنا میری تربت کی زمیں
قبر ہے ظالم مگر قبر شہید ناز ہے
جن کو ارماں ہوگا ان کو ہوگا ارماں دید کا
ذرہ ذرہ اپنے دل کا جلوہ گاہ ناز ہے
زندگی اس کی ہے موت اس کی ہے تربت اس کی ہے
جس کی خاک دل پہ وہ محو خرام ناز ہے
اب کہاں وہ نغمۂ دل کی صدائے جاں نواز
بولنے والا جو پردہ تھا وہی بے ساز ہے
فکر آزادی کو اے صیاد آزادی سمجھ
یہ تڑپنا دل کا بھی منجملۂ پرواز ہے
اے مرے ٹوٹے ہوئے دل کی صدائے منتشر
دیکھ جو ہے جس جگہ پر گوش بر آواز ہے
اس سے پہلے دل لیا تھا تم نے جس انداز سے
آج بھی کیا بات کرنے کا وہی انداز ہے
عمر گزری موت آئی بن کے انجام حیات
اور ابھی تک عشق کا آغاز ہی آغاز ہے
جان برباد تمنا دل خراب آرزو
ہر نفس راہ طلب میں نغمۂ بے ساز ہے
آشیاں والے خدارا کر نہ ذکر آشیاں
پتا پتا گلستاں کا گوش بر آواز ہے
نغمۂ روز ازل تیرے ترنم کے نثار
سننے والا آج بھی محو صدائے ساز ہے
درد کو رکھتے ہیں سینہ میں چھپائے ہر گھڑی
کیا کہیں افقرؔ کسی سے دل کا اپنے راز ہے
افقر موہانی