کلامِ شاعر
- 01 بیٹھا ہوں شمع عشق فروزاں کئے ہوئے
- 02 تعین کی حدوں میں جلوہ ساماں ہو نہیں سکتا
- 03 شب فراق ہمارا وہ نیم جاں ہونا
- 04 دیدۂ محو مال ہے پیارے
- 05 آئے نہ حرف ضبط پہ پیر مغاں کہیں
- 06 ضو فشاں سینہ میں سوز غم پنہاں نکلا
- 07 وحشت میں کوئی کار نمایاں نہ کر سکے
- 08 اجل نے لوٹ لیا آ کے کاروان حیات
- 09 حجاب جسم و جاں میں حسن پنہاں دیکھ لیتے ہیں
- 10 عمر دو روزہ تابع ہجر و وصال ہے
- 11 سامنے اس بت کے جب جانا پڑا
- 12 خدا ہی جانے کہ ہے یا تہہ مزار نہیں
- 13 محشر کا اعتبار ہوا ہے کبھی کبھی
- 14 مکاں چھوڑ کر لا مکاں دیکھتے ہیں
- 15 سنی تو اس نے غیروں سے ہوا گو بد گماں ہم سے
- 16 خدائی مجھ کو مل جاتی خدائے دو جہاں ملتا
- 17 حرم کہتا ہے کچھ دیر بتاں کچھ اور کہتا ہے
- 18 جوانی میں نظر کو تابع احکام ہونے دو
- 19 صبا کو فکر ہے کعبہ نیا بنانے کی
- 20 دیا جب دل تو دلبر کا گلہ کیا
- 21 وہ امنگیں نہیں اب وہ دل ناشاد نہیں
- 22 محبت میں خرد کی رہبری دیکھی نہیں جاتی
- 23 گری وہ چرخ سے بجلی جلا وہ آشیاں اپنا
- 24 اب کیا بتاؤں درد کہاں تھا کہاں نہ تھا
- 25 اے درد دل میں رہ کر دل ہی کا راز ہو جا
- 26 یہ کس کے آستانے کی زمیں معلوم ہوتی ہے
- 27 اس کی نہیں خدائی کہ اس کا خدا نہیں
- 28 وعدۂ وصل یار نے مارا
- 29 رکھی ہے حسن پہ بنیاد عاشقی میں نے
- 30 شوق دل حسرت دیدار سے آگے نہ بڑھا
- 31 سر کو چاہا بھی اٹھانا تو اٹھایا نہ گیا
- 32 موت کیا ختم حیات غم دنیا کرنا
- 33 راز توحید تو کثرت میں چھپا ہے اے دوست
- 34 ترے جلوؤں میں گم ہو کر نشاں باقی نہیں رہتا
- 35 جبین شوق اتنی تو شریک کار ہو جائے
- 36 آغاز محبت کا تو انجام نہیں ہے
- 37 دل غنی ہے تو مفلسی کیا ہے
- 38 شراب پی کے بھی مست شراب ہو نہ سکا
- 39 مری ہستی کا جلووں میں ترے روپوش ہو جانا
- 40 نزع کی ہچکی مریض ہجر کی دم ساز ہے
- 41 شیشہ میں ہے شراب تو شیشہ شراب میں
- 42 بس اتنی رہ گئی اہل وفا کی داستاں باقی
- 43 کچھ عجب یہ بارگاہ عشق کا دستور ہے
- 44 خوشی جانتے ہیں نہ غم جانتے ہیں
- 45 ترے حسن نظر کا یہ بھی اک اعجاز ہے ساقی