search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
افقر موہانی
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
بیٹھا ہوں شمع عشق فروزاں کئے ہوئے
تعین کی حدوں میں جلوہ ساماں ہو نہیں سکتا
شب فراق ہمارا وہ نیم جاں ہونا
دیدۂ محو مال ہے پیارے
آئے نہ حرف ضبط پہ پیر مغاں کہیں
ضو فشاں سینہ میں سوز غم پنہاں نکلا
وحشت میں کوئی کار نمایاں نہ کر سکے
اجل نے لوٹ لیا آ کے کاروان حیات
حجاب جسم و جاں میں حسن پنہاں دیکھ لیتے ہیں
عمر دو روزہ تابع ہجر و وصال ہے
سامنے اس بت کے جب جانا پڑا
خدا ہی جانے کہ ہے یا تہہ مزار نہیں
محشر کا اعتبار ہوا ہے کبھی کبھی
مکاں چھوڑ کر لا مکاں دیکھتے ہیں
سنی تو اس نے غیروں سے ہوا گو بد گماں ہم سے
خدائی مجھ کو مل جاتی خدائے دو جہاں ملتا
حرم کہتا ہے کچھ دیر بتاں کچھ اور کہتا ہے
جوانی میں نظر کو تابع احکام ہونے دو
صبا کو فکر ہے کعبہ نیا بنانے کی
دیا جب دل تو دلبر کا گلہ کیا
وہ امنگیں نہیں اب وہ دل ناشاد نہیں
محبت میں خرد کی رہبری دیکھی نہیں جاتی
گری وہ چرخ سے بجلی جلا وہ آشیاں اپنا
اب کیا بتاؤں درد کہاں تھا کہاں نہ تھا
اے درد دل میں رہ کر دل ہی کا راز ہو جا
یہ کس کے آستانے کی زمیں معلوم ہوتی ہے
اس کی نہیں خدائی کہ اس کا خدا نہیں
وعدۂ وصل یار نے مارا
رکھی ہے حسن پہ بنیاد عاشقی میں نے
شوق دل حسرت دیدار سے آگے نہ بڑھا
سر کو چاہا بھی اٹھانا تو اٹھایا نہ گیا
موت کیا ختم حیات غم دنیا کرنا
راز توحید تو کثرت میں چھپا ہے اے دوست
ترے جلوؤں میں گم ہو کر نشاں باقی نہیں رہتا
جبین شوق اتنی تو شریک کار ہو جائے
آغاز محبت کا تو انجام نہیں ہے
دل غنی ہے تو مفلسی کیا ہے
شراب پی کے بھی مست شراب ہو نہ سکا
مری ہستی کا جلووں میں ترے روپوش ہو جانا
نزع کی ہچکی مریض ہجر کی دم ساز ہے
شیشہ میں ہے شراب تو شیشہ شراب میں
بس اتنی رہ گئی اہل وفا کی داستاں باقی
کچھ عجب یہ بارگاہ عشق کا دستور ہے
خوشی جانتے ہیں نہ غم جانتے ہیں
ترے حسن نظر کا یہ بھی اک اعجاز ہے ساقی