آفتاب حسین — شاعر کی تصویر

اگر ملے گا کہیں کچھ تو کچھ گنوا کے ملے گا — آفتاب حسین

شاعر

تعارف شاعری

اگر ملے گا کہیں کچھ تو کچھ گنوا کے ملے گا

اگر ملے گا کہیں کچھ تو کچھ گنوا کے ملے گا
سراغ اپنا بھی اپنے سے دور جا کے ملے گا
ہوس کی راہ سے نکلو اگر نہیں ہے محبت
یہ راستہ بھی اسی راستے سے جا کے ملے گا
یہ بے رخی ہے جو اس کی ہے صرف صرف نظر تک
نظر ملائے گا ہم سے تو مسکرا کے ملے گا
بس ایک دھیان کی دھونی رما کے بیٹھ گئے ہیں
کہ ہے کوئی جو ہمارا تو ہم سے آ کے ملے گا

Agar milega kahin kuch to kuch ganwa ke milega

Agar milega kahin kuch to kuch ganwa ke milega
Suraagh apna bhi apne se dur ja ke milega
Hawas ki raah se niklo agar nahin hai mohabbat
Yeh raasta bhi usi raaste se ja ke milega
Yeh be-rukhi hai jo us ki hai sirf sirf nazar tak
Nazar milaega hum se to muskura ke milega
Bas ek dhyaan ki dhuni rama ke baith gaye hain
Ke hai koi jo hamara to hum se aa ke milega

شاعر کے بارے میں

آفتاب حسین

آفتاب حسین معاصر اردو شاعری کا ایک معتبر اور منفرد نام ہیں جنہوں نے اپنی فکری گہرائی، داخلی کرب اور جدید حسیت کے ذریعے اردو غزل کو ایک نیا آہنگ عطا کیا۔ 1962ء میں ضلع چکوال کے شہر تلہ گنگ میں پیدا ہونے والے آفتاب حسین نے اپنی شاعری میں انسان کے باطنی تجربات، محبت، یاد، ہجرت اور وجودی مسائل کو نہایت سادگی اور اثر انگیزی کے ساتھ بیان کیا۔ ان کا شم...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام