آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا
وقت کا کیا ہے گزرتا ہے گزر جائے گا
اتنا مانوس نہ ہو خلوت غم سے اپنی
تو کبھی خود کو بھی دیکھے گا تو ڈر جائے گا
ڈوبتے ڈوبتے کشتی کو اچھالا دے دوں
میں نہیں کوئی تو ساحل پہ اتر جائے گا
زندگی تیری عطا ہے تو یہ جانے والا
تیری بخشش تری دہلیز پہ دھر جائے گا
ضبط لازم ہے مگر دکھ ہے قیامت کا فرازؔ
ظالم اب کے بھی نہ روئے گا تو مر جائے گا
Aankh se door na ho dil se utar jaega
Waqt ka kya hai guzarta hai guzar jaega
Itna manoos na ho khalwat-e-gham se apni
Tu kabhi khud ko bhi dekhega to dar jaega
Doobte doobte kashti ko uchhaala de doon
Main nahin koi to saahil pe utar jaega
Zindagi teri ata hai to yeh jaane waala
Teri bakhshish teri dehleez pe dhar jaega
Zabt laazim hai magar dukh hai qayamat ka Faraz
Zaalim ab ke bhi na roye ga to mar jaega
ِاحمد فراز، اصل نام سید احمد شاہ، 12 جنوری 1931ء کو نوشہرہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدسید محمد شاہ برق خود استاد اور فارسی شاعر تھے،احمد فراز ابتدائی...
مکمل تعارف پڑھیں