پھر اسی رہ گزار پر شاید
ہم کبھی مل سکیں مگر شاید
جن کے ہم منتظر رہے ان کو
مل گئے اور ہم سفر شاید
جان پہچان سے بھی کیا ہوگا
پھر بھی اے دوست غور کر شاید
اجنبیت کی دھند چھٹ جائے
چمک اٹھے تری نظر شاید
زندگی بھر لہو رلائے گی
یاد یاران بے خبر شاید
جو بھی بچھڑے وہ کب ملے ہیں فرازؔ
پھر بھی تو انتظار کر شاید
احمد فراز
Phir isi rahguzar par shayad
Hum kabhi mil saken magar shayad
Jin ke hum muntazir rahe un ko
Mil gaye aur humsafar shayad
Jaan pehchan se bhi kya hoga
Phir bhi ay dost gaur kar shayad
Ajnabiyat ki dhund chhat jaaye
Chamak uthe teri nazar shayad
Zindagi bhar lahu rulaegi
Yaad yaaran-e-be-khabar shayad
Jo bhi bichhde woh kab mile hain Faraz
Phir bhi tu intezaar kar shayad
ِاحمد فراز، اصل نام سید احمد شاہ، 12 جنوری 1931ء کو نوشہرہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدسید محمد شاہ برق خود استاد اور فارسی شاعر تھے،احمد فراز ابتدائی طور پر احمد شاہ کوہاٹی کے نام سے شاعری کرتے تھے بعد میں فیص احمد فیض کے مشورے سے احمد فراز کا نام اپنایا۔ احمد فراز کے خاندان میں ادبی رجحانات نمایاں تھے اور ان کے بھائی مسعود کوثر بعد میں خیبر پختو...
مکمل تعارف پڑھیں