کلامِ شاعر
- 01 برسوں کے بعد ديکھا اک شخص دلرُبا سا
- 02 معاف کر مری مستی خدائے عز و جل
- 03 دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا
- 04 اب کے رت بدلی تو خوشبو کا سفر دیکھے گا کون
- 05 ہوا ہے تجھ سے بچھڑنے کے بعد یہ معلوم
- 06 یہ وفا تو ان دنوں کی بات ہے فراز
- 07 روگ ایسے بھی غم یار سے لگ جاتے ہیں
- 08 یہ سوچ کر کہ غم کے خریدار آ گئے
- 09 رفاقتوں میں پشیمانیاں تو ہوتی ہیں
- 10 زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے
- 11 یوں ہی مر مر کے جئیں وقت گزارے جائیں
- 12 یہ کیا کہ سب سے بیاں دل کی حالتیں کرنی
- 13 وحشتیں بڑھتی گئیں ہجر کے آزار کے ساتھ
- 14 اس نے سکوت شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا
- 15 اس کو جدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوا
- 16 تجھے ہے مشق ستم کا ملال ویسے ہی
- 17 تجھ سے مل کر تو یہ لگتا ہے کہ اے اجنبی دوست
- 18 تیری باتیں ہی سنانے آئے
- 19 تیرے قریب آ کے بڑی الجھنوں میں ہوں
- 20 سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
- 21 سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے
- 22 شعلہ تھا جل بجھا ہوں ہوائیں مجھے نہ دو
- 23 ساقیا ایک نظر جام سے پہلے پہلے
- 24 سامنے اس کے کبھی اس کی ستائش نہیں کی
- 25 روگ ایسے بھی غم یار سے لگ جاتے ہیں
- 26 رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ
- 27 قربتوں میں بھی جدائی کے زمانے مانگے
- 28 قربت بھی نہیں دل سے اتر بھی نہیں جاتا
- 29 پھر اسی رہ گزار پر شاید
- 30 میں تو مقتل میں بھی قسمت کا سکندر نکلا
- 31 کیا ایسے کم سخن سے کوئی گفتگو کرے
- 32 خاموش ہو کیوں داد جفا کیوں نہیں دیتے
- 33 کٹھن ہے راہ گزر تھوڑی دور ساتھ چلو
- 34 کروں نہ یاد مگر کس طرح بھلاؤں اسے
- 35 جز ترے کوئی بھی دن رات نہ جانے میرے
- 36 جو غیر تھے وہ اسی بات پر ہمارے ہوئے
- 37 جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو
- 38 جب بھی دل کھول کے روئے ہوں گے
- 39 اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں
- 40 اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی
- 41 ہوئی ہے شام تو آنکھوں میں بس گیا پھر تو
- 42 ہوا کے زور سے پندار بام و در بھی گیا
- 43 ہر کوئی دل کی ہتھیلی پہ ہے صحرا رکھے
- 44 گفتگو اچھی لگی ذوق نظر اچھا لگا
- 45 دکھ فسانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں
- 46 دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا
- 47 اول اول کی دوستی ہے ابھی
- 48 عجب جنون مسافت میں گھر سے نکلا تھا
- 49 ایسے چپ ہیں کہ یہ منزل بھی کڑی ہو جیسے
- 50 ایسا ہے کہ سب خواب مسلسل نہیں ہوتے
- 51 اگرچہ زور ہواؤں نے ڈال رکھا ہے
- 52 ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں
- 53 اب شوق سے کہ جاں سے گزر جانا چاہیئے
- 54 اب کیا سوچیں کیا حالات تھے کس کارن یہ زہر پیا ہے
- 55 اب کے تجدید وفا کا نہیں امکاں جاناں
- 56 اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
- 57 اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم
- 58 عاشقی میں میرؔ جیسے خواب مت دیکھا کرو
- 59 آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا