search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
احمد فراز
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
برسوں کے بعد ديکھا اک شخص دلرُبا سا
معاف کر مری مستی خدائے عز و جل
دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا
اب کے رت بدلی تو خوشبو کا سفر دیکھے گا کون
ہوا ہے تجھ سے بچھڑنے کے بعد یہ معلوم
یہ وفا تو ان دنوں کی بات ہے فراز
روگ ایسے بھی غم یار سے لگ جاتے ہیں
یہ سوچ کر کہ غم کے خریدار آ گئے
رفاقتوں میں پشیمانیاں تو ہوتی ہیں
زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے
یوں ہی مر مر کے جئیں وقت گزارے جائیں
یہ کیا کہ سب سے بیاں دل کی حالتیں کرنی
وحشتیں بڑھتی گئیں ہجر کے آزار کے ساتھ
اس نے سکوت شب میں بھی اپنا پیام رکھ دیا
اس کو جدا ہوئے بھی زمانہ بہت ہوا
تجھے ہے مشق ستم کا ملال ویسے ہی
تجھ سے مل کر تو یہ لگتا ہے کہ اے اجنبی دوست
تیری باتیں ہی سنانے آئے
تیرے قریب آ کے بڑی الجھنوں میں ہوں
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے
شعلہ تھا جل بجھا ہوں ہوائیں مجھے نہ دو
ساقیا ایک نظر جام سے پہلے پہلے
سامنے اس کے کبھی اس کی ستائش نہیں کی
روگ ایسے بھی غم یار سے لگ جاتے ہیں
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ
قربتوں میں بھی جدائی کے زمانے مانگے
قربت بھی نہیں دل سے اتر بھی نہیں جاتا
پھر اسی رہ گزار پر شاید
میں تو مقتل میں بھی قسمت کا سکندر نکلا
کیا ایسے کم سخن سے کوئی گفتگو کرے
خاموش ہو کیوں داد جفا کیوں نہیں دیتے
کٹھن ہے راہ گزر تھوڑی دور ساتھ چلو
کروں نہ یاد مگر کس طرح بھلاؤں اسے
جز ترے کوئی بھی دن رات نہ جانے میرے
جو غیر تھے وہ اسی بات پر ہمارے ہوئے
جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو
جب بھی دل کھول کے روئے ہوں گے
اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں
اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی
ہوئی ہے شام تو آنکھوں میں بس گیا پھر تو
ہوا کے زور سے پندار بام و در بھی گیا
ہر کوئی دل کی ہتھیلی پہ ہے صحرا رکھے
گفتگو اچھی لگی ذوق نظر اچھا لگا
دکھ فسانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں
دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا
اول اول کی دوستی ہے ابھی
عجب جنون مسافت میں گھر سے نکلا تھا
ایسے چپ ہیں کہ یہ منزل بھی کڑی ہو جیسے
ایسا ہے کہ سب خواب مسلسل نہیں ہوتے
اگرچہ زور ہواؤں نے ڈال رکھا ہے
ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں
اب شوق سے کہ جاں سے گزر جانا چاہیئے
اب کیا سوچیں کیا حالات تھے کس کارن یہ زہر پیا ہے
اب کے تجدید وفا کا نہیں امکاں جاناں
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
اب اور کیا کسی سے مراسم بڑھائیں ہم
عاشقی میں میرؔ جیسے خواب مت دیکھا کرو
آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا