شعلہ تھا جل بجھا ہوں ہوائیں مجھے نہ دو
میں کب کا جا چکا ہوں صدائیں مجھے نہ دو
جو زہر پی چکا ہوں تمہیں نے مجھے دیا
اب تم تو زندگی کی دعائیں مجھے نہ دو
یہ بھی بڑا کرم ہے سلامت ہے جسم ابھی
اے خسروان شہر قبائیں مجھے نہ دو
ایسا نہ ہو کبھی کہ پلٹ کر نہ آ سکوں
ہر بار دور جا کے صدائیں مجھے نہ دو
کب مجھ کو اعتراف محبت نہ تھا فرازؔ
کب میں نے یہ کہا ہے سزائیں مجھے نہ دو
احمد فراز
Shola tha jal bujha hoon hawaain mujhe na do
Main kab ka ja chuka hoon sadaain mujhe na do
Jo zehar pi chuka hoon tumhein ne mujhe diya
Ab tum to zindagi ki duaain mujhe na do
Yeh bhi bada karam hai salamat hai jism abhi
Aye khusravan-e-shehr qabain mujhe na do
Aisa na ho kabhi ke palat kar na aa sakoon
Har baar door ja ke sadaain mujhe na do
Kab mujh ko aitraaf-e-mohabbat na tha Faraz
Kab main ne yeh kaha hai sazain mujhe na do
ِاحمد فراز، اصل نام سید احمد شاہ، 12 جنوری 1931ء کو نوشہرہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدسید محمد شاہ برق خود استاد اور فارسی شاعر تھے،احمد فراز ابتدائی طور پر احمد شاہ کوہاٹی کے نام سے شاعری کرتے تھے بعد میں فیص احمد فیض کے مشورے سے احمد فراز کا نام اپنایا۔ احمد فراز کے خاندان میں ادبی رجحانات نمایاں تھے اور ان کے بھائی مسعود کوثر بعد میں خیبر پختو...
مکمل تعارف پڑھیں