search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
اکبر اللہ آبادی
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
اس میں عکس آپ کا اتاریں گے
جو ناصح مرے آگے بکنے لگا
بوسۂ زُلفِ سِیاہ فام مِلے گا کہ نہیں
آم نامہ
تم نے بیمار محبت کو ابھی کیا دیکھا
طریق عشق میں مجھ کو کوئی کامل نہیں ملتا
نئی تہذیب
بے پردہ کل جو آئیں نظر چند بیبیاں
صدیوں فلاسفی کی چناں اور چنیں رہی
خودی بھی مجھ سے جب واقف نہ تھی میں تب سے بسمل ہوں
کوئی ہنس رہا ہے کوئی رو رہا ہے
برق کلیسا
غریب خانے میں للہ دو گھڑی بیٹھو
دِل زِیست سے بیزار ہے،معلُوم نہیں کیوں
یار نے کچھ خبر نہ لی، دل نے جگر نے کیا کیا
ضد ہے انہیں پورا مرا ارماں نہ کریں گے
وہ ہوا نہ رہی وہ چمن نہ رہا وہ گلی نہ رہی وہ حسیں نہ رہے
انہیں نگاہ ہے اپنے جمال ہی کی طرف
امید ٹوٹی ہوئی ہے میری جو دل مرا تھا وہ مر چکا ہے
تری زلفوں میں دل الجھا ہوا ہے
طریق عشق میں مجھ کو کوئی کامل نہیں ملتا
شیخ نے ناقوس کے سر میں جو خود ہی تان لی
سانس لیتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں
رنگ شراب سے مری نیت بدل گئی
پھر گئی آپ کی دو دن میں طبیعت کیسی
نہ روح مذہب نہ قلب عارف نہ شاعرانہ زبان باقی
نہ حاصل ہوا صبر و آرام دل کا
نہ بہتے اشک تو تاثیر میں سوا ہوتے
معنی کو بھلا دیتی ہے صورت ہے تو یہ ہے
کیا جانیے سید تھے حق آگاہ کہاں تک
خوشی ہے سب کو کہ آپریشن میں خوب نشتر یہ چل رہا ہے
خدا علی گڑھ کی مدرسے کو تمام امراض سے شفا دے
ختم کیا صبا نے رقص گل پہ نثار ہو چکی
کہاں وہ اب لطف باہمی ہے محبتوں میں بہت کمی ہے
جو تمہارے لب جاں بخش کا شیدا ہوگا
جذبۂ دل نے مرے تاثیر دکھلائی تو ہے
جہاں میں حال مرا اس قدر زبون ہوا
جب یاس ہوئی تو آہوں نے سینے سے نکلنا چھوڑ دیا
عشق بت میں کفر کا مجھ کو ادب کرنا پڑا
اک بوسہ دیجئے مرا ایمان لیجئے
ہوں میں پروانہ مگر شمع تو ہو رات تو ہو
حیا سے سر جھکا لینا ادا سے مسکرا دینا
ہوائے شب بھی ہے عنبر افشاں عروج بھی ہے مہ مبیں کا
ہر قدم کہتا ہے تو آیا ہے جانے کے لیے
ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
حلقے نہیں ہیں زلف کے حلقے ہیں جال کے
حال دل میں سنا نہیں سکتا
غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارا نہیں ہوتا
گلے لگائیں کریں پیار تم کو عید کے دن
فلسفی کو بحث کے اندر خدا ملتا نہیں
دنیا میں ہوں دنیا کا طلب گار نہیں ہوں
دل مرا جس سے بہلتا کوئی ایسا نہ ملا
دل ہو خراب دین پہ جو کچھ اثر پڑے
دل مایوس میں وہ شورشیں برپا نہیں ہوتیں
درد تو موجود ہے دل میں دوا ہو یا نہ ہو
چرخ سے کچھ امید تھی ہی نہیں
بٹھائی جائیں گی پردے میں بیبیاں کب تک
بے تکلف بوسۂ زلف چلےپا لیجئے
بہت رہا ہے کبھی لطف یار ہم پر بھی
اپنی گرہ سے کچھ نہ مجھے آپ دیجئے
اپنے پہلو سے وہ غیروں کو اٹھا ہی نہ سکے
اگر دل واقف نیرنگیٔ طبع صنم ہوتا
آنکھیں مجھے تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتے
آج آرائش گیسوئے دوتا ہوتی ہے
آہ جو دل سے نکالی جائے گی