دیار غیر میں کوئی جہاں نہ اپنا ہو
شدید کرب کی گھڑیاں گزار چکنے پر
کچھ اتفاق ہو ایسا کہ ایک شام کہیں
کسی اک ایسی جگہ سے ہو یونہی میرا گزر
جہاں ہجوم گریزاں میں تم نظر آ جاؤ
اور ایک ایک کو حیرت سے دیکھتا رہ جائے!
اختر الایمان
Diyar-e-ghair mein koi jahan na apna ho
Shadeed karb ki ghadiyan guzaar chukne par
Kuch ittifaq ho aisa ke ek shaam kahin
Kisi ek aisi jagah se ho yoonhi mera guzar
Jahan hujoom-e-gurezaan mein tum nazar aa jao
Aur ek ek ko hairat se dekhta reh jaaye!
اخترالایمان اردو نظم کے اُن اہم جدید شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے روایت کی تقلید کے بجائے فرد کی داخلی سچائی کو اپنی شاعری کا مرکز بنایا۔ ان کا اصل نام اختر حسین تھا اور وہ 12 نومبر 1915ء کو نجیب آباد، ضلع بجنور (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی، جہاں جدید فکری رجحانات، مغربی فلسف...
مکمل تعارف پڑھیں