آل رضا رضا — شاعر کی تصویر

نہ رکھا کہیں کا نہ اپنا بنایا — آل رضا رضا

شاعر

تعارف شاعری

نہ رکھا کہیں کا نہ اپنا بنایا

نہ رکھا کہیں کا نہ اپنا بنایا
وہ کیا چاہتے ہیں سمجھ میں نہ آیا
دیا دل تو کیف وفا ہاتھ آیا
وہ کیا جانے جس نے نہ کھویا نہ پایا
یہی فرض کر لو کہ درد محبت
نہ تم نے سنا اور نہ میں نے سنایا
کڑی دھوپ میں ہے محبت کی منزل
ذرا دیر کا ہے سر راہ سایا
نشیمن غریبوں کے اجڑے پڑے ہیں
ہوائے گلستاں کو چلنا نہ آیا
رضاؔ کھیلنا تھا غم زندگی سے
محبت کو ہم نے وسیلہ بنایا

Na rakha kaheen ka na apna banaya

Na rakha kaheen ka na apna banaya
Woh kya chahte hain samajh mein na aaya
Diya dil to kaif-e-wafa hath aaya
Woh kya jaane jis ne na khoya na paya
Yehi farz kar lo ke dard-e-mohabbat
Na tum ne suna aur na main ne sunaya
Kadi dhoop mein hai mohabbat ki manzil
Zara der ka hai sar-e-rah saaya
Nasheeman ghareebon ke ujde pade hain
Hawa-e-gulistan ko chalna na aaya
Razaؔ khelna tha gham-e-zindagi se
Mohabbat ko hum ne wasila banaya

شاعر کے بارے میں

آل رضا رضا

سید آلِ رضا رضا (تخلص: رضاؔ) اردو کے معروف شاعر تھے جو 10 جون 1896ء کو اتر پردیش کے ضلع اناؤ کے قصبہ نبوتنی میں ایک علمی و معزز سادات گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید محمد رضا اودھ چیف کورٹ کے اولین ججوں میں شمار ہوتے تھے، جس سے ان کے خاندانی وقار اور علمی ماحول کا اندازہ ہوتا ہے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کے بعد کنگ کالج لکھنؤ سے 1916ء میں بی ...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام