کلامِ شاعر
- 01 کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں
- 02 کیا زمانے سے نرالا ہے مسولینی کا جُرم!
- 03 ہو تیرے بیاباں کی ہوا تجھ کو گوارا
- 04 فلسفۂ غم
- 05 ہے زندہ فقط وحدتِ افکار سے ملّت
- 06 جواب شکوہ
- 07 چمک اٹھا جو ستارہ ترے مقدر کا
- 08 لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
- 09 کون رکھے گا ہمیں یاد اس دور خود غرضی میں
- 10 امامت
- 11 ترے شیشے میں مے باقی نہیں ہے
- 12 شاہيں
- 13 ابلیس کی مجلس شوریٰ
- 14 مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
- 15 فرمان خدا
- 16 آدم
- 17 اے روح محمد
- 18 رندوں کو بھی معلوم ہیں صوفی کے کمالات
- 19 روح ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے
- 20 ہرلحظہ ہے مومن کی نئی شان، نئی آن
- 21 جبریل و ابلیس
- 22 وہ میرا رونق محفل کہاں ہے
- 23 تکتے رہنا ہائے! وہ پہروں تلک سُوئے قمر
- 24 خرد نے مجھ کو عطا کی نظر حکیمانہ
- 25 خضر راہ
- 26 نصیحت
- 27 شکوہ
- 28 ایک آرزو
- 29 باغی مرید
- 30 مٹ جائے گناہوں کا تصور ہی جہاں سے اقبال
- 31 فنون لطیفہ
- 32 زمانہ آیا ہے بے حجابی کا عام دیدار یار ہوگا
- 33 ظاہر کي آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئي
- 34 یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبح گاہی
- 35 یا رب یہ جہان گزراں خوب ہے لیکن
- 36 وہ حرف راز کہ مجھ کو سکھا گیا ہے جنوں
- 37 وہی میری کم نصیبی وہی تیری بے نیازی
- 38 تو ابھی رہ گزر میں ہے قید مقام سے گزر
- 39 تجھے یاد کیا نہیں ہے مرے دل کا وہ زمانہ
- 40 ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
- 41 ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
- 42 سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا
- 43 سختیاں کرتا ہوں دل پر غیر سے غافل ہوں میں
- 44 پھر چراغ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن
- 45 پریشاں ہو کے میری خاک آخر دل نہ بن جائے
- 46 نگاہ فقر میں شان سکندری کیا ہے
- 47 نالہ ہے بلبل شوریدہ ترا خام ابھی
- 48 نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے
- 49 نہ تخت و تاج میں نے لشکر و سپاہ میں ہے
- 50 نہ آتے ہمیں اس میں تکرار کیا تھی
- 51 مسلماں کے لہو میں ہے سلیقہ دل نوازی کا
- 52 میری نوائے شوق سے شور حریم ذات میں
- 53 متاع بے بہا ہے درد و سوز آرزو مندی
- 54 مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے
- 55 لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی
- 56 کشادہ دست کرم جب وہ بے نیاز کرے
- 57 کی حق سے فرشتوں نے اقبالؔ کی غمازی
- 58 خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں
- 59 خودی ہو علم سے محکم تو غیرت جبریل
- 60 خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے
- 61 خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں
- 62 کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں
- 63 جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی
- 64 عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زیر و بم
- 65 اک دانش نورانی اک دانش برہانی
- 66 ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق
- 67 ہر شے مسافر ہر چیز راہی
- 68 گلزار ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھ
- 69 گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر
- 70 فطرت کو خرد کے روبرو کر
- 71 اعجاز ہے کسی کا یا گردش زمانہ
- 72 دل سوز سے خالی ہے نگہ پاک نہیں ہے
- 73 دگر گوں ہے جہاں تاروں کی گردش تیز ہے ساقی
- 74 ڈھونڈ رہا ہے فرنگ عیش جہاں کا دوام
- 75 اثر کرے نہ کرے سن تو لے مری فریاد
- 76 عقل گو آستاں سے دور نہیں
- 77 اپنی جولاں گاہ زیر آسماں سمجھا تھا میں
- 78 انوکھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیں
- 79 اگر کج رو ہیں انجم آسماں تیرا ہے یا میرا
- 80 افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر
- 81 عالم آب و خاک و باد سر عیاں ہے تو کہ میں