search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
علامہ اقبال
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں
کیا زمانے سے نرالا ہے مسولینی کا جُرم!
ہو تیرے بیاباں کی ہوا تجھ کو گوارا
فلسفۂ غم
ہے زندہ فقط وحدتِ افکار سے ملّت
جواب شکوہ
چمک اٹھا جو ستارہ ترے مقدر کا
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
کون رکھے گا ہمیں یاد اس دور خود غرضی میں
امامت
ترے شیشے میں مے باقی نہیں ہے
شاہيں
ابلیس کی مجلس شوریٰ
مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
فرمان خدا
آدم
اے روح محمد
رندوں کو بھی معلوم ہیں صوفی کے کمالات
روح ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے
ہرلحظہ ہے مومن کی نئی شان، نئی آن
جبریل و ابلیس
وہ میرا رونق محفل کہاں ہے
تکتے رہنا ہائے! وہ پہروں تلک سُوئے قمر
خرد نے مجھ کو عطا کی نظر حکیمانہ
خضر راہ
نصیحت
شکوہ
ایک آرزو
باغی مرید
مٹ جائے گناہوں کا تصور ہی جہاں سے اقبال
فنون لطیفہ
زمانہ آیا ہے بے حجابی کا عام دیدار یار ہوگا
ظاہر کي آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئي
یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبح گاہی
یا رب یہ جہان گزراں خوب ہے لیکن
وہ حرف راز کہ مجھ کو سکھا گیا ہے جنوں
وہی میری کم نصیبی وہی تیری بے نیازی
تو ابھی رہ گزر میں ہے قید مقام سے گزر
تجھے یاد کیا نہیں ہے مرے دل کا وہ زمانہ
ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا
سختیاں کرتا ہوں دل پر غیر سے غافل ہوں میں
پھر چراغ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن
پریشاں ہو کے میری خاک آخر دل نہ بن جائے
نگاہ فقر میں شان سکندری کیا ہے
نالہ ہے بلبل شوریدہ ترا خام ابھی
نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے
نہ تخت و تاج میں نے لشکر و سپاہ میں ہے
نہ آتے ہمیں اس میں تکرار کیا تھی
مسلماں کے لہو میں ہے سلیقہ دل نوازی کا
میری نوائے شوق سے شور حریم ذات میں
متاع بے بہا ہے درد و سوز آرزو مندی
مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے
لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی
کشادہ دست کرم جب وہ بے نیاز کرے
کی حق سے فرشتوں نے اقبالؔ کی غمازی
خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں
خودی ہو علم سے محکم تو غیرت جبریل
خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے
خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں
کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں
جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی
عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زیر و بم
اک دانش نورانی اک دانش برہانی
ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق
ہر شے مسافر ہر چیز راہی
گلزار ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھ
گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر
فطرت کو خرد کے روبرو کر
اعجاز ہے کسی کا یا گردش زمانہ
دل سوز سے خالی ہے نگہ پاک نہیں ہے
دگر گوں ہے جہاں تاروں کی گردش تیز ہے ساقی
ڈھونڈ رہا ہے فرنگ عیش جہاں کا دوام
اثر کرے نہ کرے سن تو لے مری فریاد
عقل گو آستاں سے دور نہیں
اپنی جولاں گاہ زیر آسماں سمجھا تھا میں
انوکھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیں
اگر کج رو ہیں انجم آسماں تیرا ہے یا میرا
افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر
عالم آب و خاک و باد سر عیاں ہے تو کہ میں