تکتے رہنا ہائے! وہ پہروں تلک سُوئے قمر
وہ پھٹے بادل میں بے آوازِ پا اُس کا سفر
پُوچھنا رہ رہ کے اُس کے کوہ و صحرا کی خبر
اور وہ حیرت دروغِ مصلحت آمیز پر
آنکھ وقفِ دید تھی، لب مائلِ گُفتار تھا
دل نہ تھا میرا، سراپا ذوقِ استفسار تھا
علامہ اقبال