کلامِ شاعر
- 01 خیال و خواب کے سائے میں ہم رہے برسوں
- 02 اس نے مجھے کیوں روکنا چاہا
- 03 آسیب
- 04 رائیگاں آزادیوں کے بے ثمر انچاس سال
- 05 باز گشت
- 06 بیٹھا ہوں وقف ماتم ہستی مٹا ہوا
- 07 بس ایک ہی کیفیت دل صبح و مسا ہے
- 08 اتنی ہوا نہ واعظ دیں دار باندھئے
- 09 پھر اسی شہر کا فسانہ چھیڑ
- 10 دیدنی اب سفر زیست کا منظر ہوگا
- 11 دل کہ آرائش عالم کا تماشا دیکھے
- 12 تابندہ حسن راز بہاراں ہمیں سے ہے
- 13 کیا ساتھ ترا دوں کہ میں اک موج ہوا ہوں
- 14 درد کو ہم زندگی کا کیف و کم کہتے رہے
- 15 اٹھا جو دست ستم قتل بے نوا کے لئے
- 16 ہم کہ خاموش ہوئے اہل بیاں دیکھتے ہیں
- 17 عذاب بے دلئ جان مبتلا نہ گیا
- 18 یوں نہ کوئی تری محفل میں پریشاں ہو جائے
- 19 بندھا ہے عہد جنوں چشم اعتبار کے ساتھ
- 20 ہم گھر ہی میں رہتے تو تماشا تو نہ ہوتے
- 21 کھلی فضا کا ابھرتا نہیں سماں گھر میں
- 22 وہ جو اب دل کی رہ گزر میں نہیں
- 23 آہ بارگہہ حسن میں جلووں کا اثر دیکھ
- 24 گلشن کا ثنا خواں ہوں بیاباں میں پڑا ہوں
- 25 دروازہ ترے شہر کا وا چاہئے مجھ کو
- 26 سنگ در اس کا ہر اک در پہ لگا ملتا ہے
- 27 ہم کبھی چشم زمانہ میں نہ پنہاں ہوں گے
- 28 جوش جنوں بھی گردش دوراں سے کم نہ تھا
- 29 منزل مرگ میں جینے کی ادا رکھتا ہوں
- 30 زنجیر سے اٹھتی ہے صدا سہمی ہوئی سی
- 31 دل خوں ہے دل کا حال رقم ہو تو کس طرح
- 32 روشنی بن کے ستاروں میں رواں رہتے ہیں
- 33 پھر ہنر مندوں کے گھر سے بے ہنر جاتا ہوں میں
- 34 مانوس ہو گئے ہیں اندھے پرانے گھر سے
- 35 غم کی گرمی سے دل پگھلتے رہے
- 36 بیٹھا ہوں وقف ماتم ہستی مٹا ہوا
- 37 حصار دل سے ادھر بھی حقیقتیں ہیں بہت
- 38 آنکھوں میں کہیں اس کے بھی طوفاں تو نہیں تھا
- 39 میں عالم امکاں میں جسے ڈھونڈ رہا ہوں
- 40 آنکھوں میں کہیں اس کی بھی طوفاں تو نہیں تھا
- 41 تھا بہت بے درد لیکن حوصلہ دیتا رہا
- 42 ہم حد اندمال سے بھی گئے
- 43 حیراں ہوں کہ یہ کون سا دستور وفا ہے
- 44 زندگی ہونے کا دکھ سہنے میں ہے
- 45 حیراں ہوں کہ یہ کون سا دستور وفا ہے
- 46 وہ جس کی داستاں پھیلی دل دیوانہ میرا تھا
- 47 آخر ہم نے طور پرانا چھوڑ دیا
- 48 وقت کا جھونکا جو سب پتے اڑا کر لے گیا
- 49 اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا
- 50 بند آنکھوں سے نہ حسن شب کا اندازہ لگا