search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
عرش صدیقی
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
خیال و خواب کے سائے میں ہم رہے برسوں
اس نے مجھے کیوں روکنا چاہا
آسیب
رائیگاں آزادیوں کے بے ثمر انچاس سال
باز گشت
بیٹھا ہوں وقف ماتم ہستی مٹا ہوا
بس ایک ہی کیفیت دل صبح و مسا ہے
اتنی ہوا نہ واعظ دیں دار باندھئے
پھر اسی شہر کا فسانہ چھیڑ
دیدنی اب سفر زیست کا منظر ہوگا
دل کہ آرائش عالم کا تماشا دیکھے
تابندہ حسن راز بہاراں ہمیں سے ہے
کیا ساتھ ترا دوں کہ میں اک موج ہوا ہوں
درد کو ہم زندگی کا کیف و کم کہتے رہے
اٹھا جو دست ستم قتل بے نوا کے لئے
ہم کہ خاموش ہوئے اہل بیاں دیکھتے ہیں
عذاب بے دلئ جان مبتلا نہ گیا
یوں نہ کوئی تری محفل میں پریشاں ہو جائے
بندھا ہے عہد جنوں چشم اعتبار کے ساتھ
ہم گھر ہی میں رہتے تو تماشا تو نہ ہوتے
کھلی فضا کا ابھرتا نہیں سماں گھر میں
وہ جو اب دل کی رہ گزر میں نہیں
آہ بارگہہ حسن میں جلووں کا اثر دیکھ
گلشن کا ثنا خواں ہوں بیاباں میں پڑا ہوں
دروازہ ترے شہر کا وا چاہئے مجھ کو
سنگ در اس کا ہر اک در پہ لگا ملتا ہے
ہم کبھی چشم زمانہ میں نہ پنہاں ہوں گے
جوش جنوں بھی گردش دوراں سے کم نہ تھا
منزل مرگ میں جینے کی ادا رکھتا ہوں
زنجیر سے اٹھتی ہے صدا سہمی ہوئی سی
دل خوں ہے دل کا حال رقم ہو تو کس طرح
روشنی بن کے ستاروں میں رواں رہتے ہیں
پھر ہنر مندوں کے گھر سے بے ہنر جاتا ہوں میں
مانوس ہو گئے ہیں اندھے پرانے گھر سے
غم کی گرمی سے دل پگھلتے رہے
بیٹھا ہوں وقف ماتم ہستی مٹا ہوا
حصار دل سے ادھر بھی حقیقتیں ہیں بہت
آنکھوں میں کہیں اس کے بھی طوفاں تو نہیں تھا
میں عالم امکاں میں جسے ڈھونڈ رہا ہوں
آنکھوں میں کہیں اس کی بھی طوفاں تو نہیں تھا
تھا بہت بے درد لیکن حوصلہ دیتا رہا
ہم حد اندمال سے بھی گئے
حیراں ہوں کہ یہ کون سا دستور وفا ہے
زندگی ہونے کا دکھ سہنے میں ہے
حیراں ہوں کہ یہ کون سا دستور وفا ہے
وہ جس کی داستاں پھیلی دل دیوانہ میرا تھا
آخر ہم نے طور پرانا چھوڑ دیا
وقت کا جھونکا جو سب پتے اڑا کر لے گیا
اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا
بند آنکھوں سے نہ حسن شب کا اندازہ لگا