تڑپتے دل کو نہ لے اضطراب لیتا جا
پٹک دے ساغر خالی شراب لیتا جا
وہ ہاتھ مار پلٹ کر جو کر دے کام تمام
بڑے عذاب میں ہوں میں ثواب لیتا جا
وہ بن ہی گھر سے ہے اچھا سکون جس میں ملے
مجھے بھی او دل خانہ خراب لیتا جا
ملے اک آہ کا وقفہ تو وقت پرشش حال
ہر اک سوال کا اپنے جواب لیتا جا
نقاب اٹھا کے کیا سامنا تو منہ کو نہ پھیر
دکھا کے خواب نہ آنکھوں سے خواب لیتا جا
آرزو لکھنوی
Tadapte dil ko na le iztirab leta ja
Patak de saghar khaali sharab leta ja
Woh haath maar palat kar jo kar de kaam tamaam
Bade azaab mein hun main sawab leta ja
Woh ban hi ghar se hai achcha sukoon jis mein mile
Mujhe bhi o dil-e-khana kharab leta ja
Mile ik aah ka waqfa to waqt-e-pursish-e-haal
Har ik sawal ka apne jawab leta ja
Naqab utha ke kiya saamna to munh ko na pher
Dikha ke khwab na aankhon se khwab leta ja
آرزو لکھنوی اردو کے اُن ہمہ جہت اور قدآور شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے کلاسیکی روایت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا۔ ان کا اصل نام سید انور حسین تھا اوروہ 16 فروری 1873ء کو لکھنؤ میں ایک علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد میر ذاکر حسین ‘یاس’ اور بھائی میر یوسف حسین ‘قیاس’ بھی نامور شعرا تھے، یوں شاعری انہیں ورثے میں ملی۔ گھر پر عربی...
مکمل تعارف پڑھیں