ابھی حویلی بٹی نہیں تھی
مکین خوش تھے
بساطِ دل کے کسی بھی مہرے پہ
عقل غالب نہیں ہوئی تھی
رسوئی خانے میں بہن بھائیوں کی سانجھ ہنڈیا میں پک رہی تھی
یہیں کہیں پر
صحن میں رکھے پلنگ پہ لیٹا
نحیف بوڑھا
ادھورے سپنوں کو پھر سے تجسیم کر رہا تھا
کہ بجھتی آنکھوں میں ماند پڑتی کرن کرن سے
اک ایک ذرّا ادھار لیکر
جوان پیڑھی میں خواب تقسیم کر رہا تھا
حسد ، اندیشے ، طمع و لالچ
صحن کی چوکھٹ سے دور
رستے کی دُھول بن کر پڑے ہوئے تھے
کہ خاک اب تک اُڑی نہیں تھی
فشارِ خوں کی دوائیں ، سگرٹ ، نظر کا چشمہ
ابھی کسی پر گِراں نہیں تھا
ابھی یہ گھر تھا مکاں نہیں تھا
ابھی وراثت میں قہقہے ، درد ، خواب ، ہاتھوں کے لمس
آپس میں بٹ رہے تھے
کہ زندگانی کے دن کٹھن تھے
مگر سہولت سے کٹ رہے تھے
محبتوں کا
چراغ جلتا تھا طاقچے میں
مگر یہ سب ٹھیک
تب تلک تھا
نحیف سانسوں کی ڈور جب تک
کٹی نہیں تھی
ابھی حویلی بٹی نہیں تھی !
عاطف جاوید عاطف