گُرو
ہمارے ڈیرے پہ آؤ صاحب
تمہیں دکھائیں
ادھورے لوگوں کی پوری دنیا
کھنکتے گھنگرو کی لَے پہ رقصاں ٹرانس جینڈر
جو اپنے سینے سے جنسی ردو بدل کے دُکھ کو لگائے اپنی سیاہ بختی سے لڑ رہے ہیں
یہ پارساؤں کی پارسائی کا راز رکھتے ہوئے مخنث
عمیق راتوں میں پلتے لمحوں کو اپنا ملبوس کر رہے ہیں
کہ روحِ کامل کے نامکمل بدن کے دکھ کو
قدیم وقتوں سے سہہ رہے ہیں
یہ سب صحیفوں میں ذکر اپنا تلاش کر کر کے تھک گئے ہیں
کسی صحیفے میں حوا آدم کی ہے کہانی
کہیں کتابوں میں ماں کی عظمت کی ہے نشانی
کہیں پڑھا تھا
"زمیں پہ اُس کا وجود ہوتا تو ایک ممتا کا روپ ہوتا "
ہمارے ڈیرے کو دیکھو صاحب
یہ ریٹا , جُولی , یہ ڈولی , گُڑیا
کہ جن کے ماتھے پہ ماں کی ممتا کا ایک بوسہ تلک نہیں ہے
میں ان کو کیسے یقیں دلاؤں کہ ان کی ممتا خدا نہیں تھی
میں ان کو کیسے بتاؤں صاحب
کہ جن صحیفوں میں باپ جنت کا در لکھا ہے ..
وہ حق ہے صاحب ...مگر حقیقت ہے کڑوا سچ ہے کہ ان کی جنت کے در پہ بچپن سے ایک تالا لگا ہوا ,,,
کہ ان کی قسمت کی کوئی کھڑکی کُھلی نہیں ہے
ہر اک پہ جالا لگا ہوا ہے !!!
عاطف جاوید عاطف