عذرا یاسمین

شاعر

تعارف شاعری

محبت کیا ہے

“محبت کیا ہے”
ایک مٹیالے رنگ کی چھوٹی سی چٹان ،جس پر گہرے سبز سبزے کی چادر بچھی ہے، اور اُسی سبزے پر تا حدِ نگاہ سفید پھول (گُلِ داؤ دی)، اپنے زر دانوں پر پڑنے والی سُورج کی روشنی سے فضا کو روشن اور خُوب صورت بنا رہے ہیں۔۔اسی چٹان کے ایک چھوٹے سے پتھر کی اوٹ سے جھانکتا ہوا یہی ایک تروتازہ سفید پھول سوال کرتا ہے ۔۔”محبت کیا ہے”
“سنگلاخ چٹانوں کے بیچ، سنگ زاروں میں، کسی صحرا کی ریت کے بیچوں بیچ کسی جھاڑی میں ایک نازک، معصوم سی کونپل پُھوٹنے کا نام محبت ہے”
ایک نو خیز اور نو عُمر حسینہ اپنی ہمجولیوں کے جُھرمٹ میں ہنستی ، کھلکھلاتی ، اور چمکتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ اپنی سکھیوں سے کہتی ہے ۔۔ارے دیکھو تو یہ کون بچے ہیں جو اپنے ہاتھوں میں سفید پھولوں سے پُھول در پھول در پُھول بُنے ہؤے، بالوں کو سجانے کے واسطے بے شُمار رِنگ (ہالے) (daisy flower crown )ہماری طرف بڑھ رہے ہیں۔۔۔( گلیات کے سیاحتی مقامات پر یہ مقامی بچے، انتہائی خستہ لباس میں، غُربت کے آثار چہرے پر سجائے ، معصوم آنکھوں میں ماں باپ کا سہارا بننے کے خواب سجائے ، جا بجا، کہیں پر پھولوں سے بنائے گئے یہ رِنگ اور کہیں کہیں پر مقامی پھل لئے اور کہیں پر بندروں کو کھلانے والے بُھٹے لئے ، کثیر تعداد میں نظر آئیں گے)
اور پھر اپنے ادارے کی بس میں آئی ہوئی یہ نو عُمر طالبہ اپنی ساتھیوں سمیت اُن بچوں سے مُعاوضے کے بدلے وہ گُلِ داؤ دی سے بنے ہؤے تاج لے کر اپنے بالوں پر سجا کر خود کو کسی پرستان کی حُور پریاں یا کسی عظیم الشان سلطنت کی ملکا ئیں تصور کرتے ہؤے اُسی طرح ہنستی ہوئی بس میں یکے بعد دیگرے سوار ہوتی ہیں۔۔۔
بس چل پڑتی ہے اور سب گاتے بجاتے ایک دوسرے کے ساتھ ہنسی مذاق میں ، اگلی منزل سے بے خبر ، مصروف ہو جاتی ہیں۔۔
کہ اچانک اُس کی نگاہ گود میں پڑے ہوئے پھولوں کے رنگ پر پڑتی ہے، جس کو اُس نے بالوں اُتار کر سامنے رکھا ہوا تھا۔۔۔ اور پھر غیر ارادی طور پر وہ اُن ہی میں سے ایک پھول کی سرگوشی سُنتی ہے کہ ۔۔۔
“ یہ محبت بھلا کیا ہے”
“کسی نو عُمر ، حسین دوشیزہ کی گھنی زُلفوں میں سجا ہوا کوئی پُھول ، کنوارگی کا حُسن لئے اپنی نوخیز پتیوں کے ساتھ دھیمی دھیمی خوشبو بکھیرتا ہوا۔۔۔ہی محبت کا دوسرا نام ہے”
کسی میدانی علاقے سے آئے ہؤے ایک مُتوسط خاندان کے مختلف عُمروں کے بچے، جو ہر سال اپنے والدین کے ساتھ چند دن پہاڑوں کے بیچ گُزارنے آتے ہیں۔۔، اُونچے اُونچے درختوں سے ڈھکی ، ایک سڑک کے کنارے ایک ڈھلوان پر آپس میں ، دُنیا کے بکھیڑوں سے آزاد، کتابوں اور قلم دوات سے دور اپنے کھیل کُود میں مصروف ، تا حدِ نگاہ سفید پُھولوں کی چادر کو دیکھتے ہؤئے مُقابلہ کی ٹھان لیتے ہیں اور پھر خوشی سے لبریز چہروں کے ساتھ بے ساختہ پھول چُننے لگتے ہیں۔۔۔
اور پھر اپنے اپنے حصے کی خُوشی کو پلو سے باندھے واپسی کے لئے چل پڑتے ہیں۔۔اُن کو معلوم ہے کہ گلیات سے واپسی پر وہ حسبِ معمول دوپہر کے کھانے کے لئے بہتے پانی (ہرنو)کے کنارے کُچھ دیر قیام کریں گے۔۔
اور وہاں وہ سب پانی کے بیچ رنگین چھتریوں کے نیچے پڑی چارپائیوں پر اُچھل کُود کرتے ہؤئے ، ایک دوسرے پر پانی کے چھینٹے اُڑاتے ہؤئے بھیگ جاتے ہیں۔۔۔”
اسی موج مستی کے دوران خوشی سے تمتمانے چہروں کے ساتھ سب گاڑی میں سے اپنے اپنے چنے ہؤئے سفید پھول اُٹھا لاتے ہیں۔۔
اور یکے بعد دیگرے پانی میں بہانے لگتے ہیں۔۔۔شفاف سطح آب پر یہ پھیلے یہ پھول دن میں ہی نیلے آسماں پر تاروں کی طرح دِکھنے لگتے ہیں۔۔اور جب پانی بہتے بہتے زیرِ آب پڑے ہؤے کسی پتھر سے ٹکراتا ہے تو یہی پُھول جھاگ بناتے پانی کے ساتھ اُچھل کر دور پڑ جاتے ہیں۔۔اسی دوران ایک پُھول دو سفید دودھیا پتھروں کے بیچ آجاتا ہے اور پھر لاکھ کوشش کے باوجود وہ پانی کی لہروں کا ساتھ نہیں دے سکتا۔۔اور اپنے باقی ساتھی پھولوں کو پانی کے ساتھ اُچھلتے اور بہتے ہوئے دیکھتا ہے اور پھر اُن ہی پتھروں سے سرگوشی کرتا ہے
“یہ محبت بھلا کس چیز کا نام ہے”
“زیست میں ۔۔۔بہتے جھرنو ں کا حُسن، صاف شفاف پانی کا بہاؤ، اور اُن پر ان حسین پھولوں کا تیرنا اور اُونچی نیچی لہروں کے ارتعاش پر اُن کا مچلنا ہی محبت ہے”

عذرا یاسمین