کلامِ شاعر
- 01 زلف جو رخ پر ترے اے مہر طلعت کھل گئی
- 02 یہ قصہ وہ نہیں تم جس کو قصہ خواں سے سنو
- 03 یاں خاک کا بستر ہے گلے میں کفنی ہے
- 04 یا مجھے افسر شاہانہ بنایا ہوتا
- 05 وہ سو سو اٹھکھٹوں سے گھر سے باہر دو قدم نکلے
- 06 واقف ہیں ہم کہ حضرت غم ایسے شخص ہیں
- 07 واں رسائی نہیں تو پھر کیا ہے
- 08 واں ارادہ آج اس قاتل کے دل میں اور ہے
- 09 ٹکڑے نہیں ہیں آنسوؤں میں دل کے چار پانچ
- 10 تفتہ جانوں کا علاج اے اہل دانش اور ہے
- 11 شمشیر برہنہ مانگ غضب بالوں کی مہک پھر ویسی ہی
- 12 شانے کی ہر زباں سے سنے کوئی لاف زلف
- 13 سب رنگ میں اس گل کی مرے شان ہے موجود
- 14 رخ جو زیر سنبل پر پیچ و تاب آ جائے گا
- 15 قاروں اٹھا کے سر پہ سنا گنج لے چلا
- 16 پان کھا کر سرمہ کی تحریر پھر کھینچی تو کیا
- 17 نباہ بات کا اس حیلہ گر سے کچھ نہ ہوا
- 18 نہیں عشق میں اس کا تو رنج ہمیں کہ قرار و شکیب ذرا نہ رہا
- 19 نہ اس کا بھید یاری سے نہ عیاری سے ہاتھ آیا
- 20 نہ درویشوں کا خرقہ چاہیئے نہ تاج شاہانا
- 21 نہ دو دشنام ہم کو اتنی بد خوئی سے کیا حاصل
- 22 نہ دائم غم ہے نے عشرت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے
- 23 محبت چاہیے باہم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہو
- 24 مر گئے اے واہ ان کی ناز برداری میں ہم
- 25 میں ہوں عاصی کہ پر خطا کچھ ہوں
- 26 لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
- 27 کیونکہ ہم دنیا میں آئے کچھ سبب کھلتا نہیں
- 28 کیونکر نہ خاکسار رہیں اہل کیں سے دور
- 29 کیا کچھ نہ کیا اور ہیں کیا کچھ نہیں کرتے
- 30 کیا کہوں دل مائل زلف دوتا کیونکر ہوا
- 31 خواہ کر انصاف ظالم خواہ کر بیداد تو
- 32 کریں گے قصد ہم جس دم تمہارے گھر میں آویں گے
- 33 کافر تجھے اللہ نے صورت تو پری دی
- 34 جگر کے ٹکڑے ہوئے جل کے دل کباب ہوا
- 35 جب کہ پہلو میں ہمارے بت خود کام نہ ہو
- 36 جب کبھی دریا میں ہوتے سایہ افگن آپ ہیں
- 37 اتنا نہ اپنے جامے سے باہر نکل کے چل
- 38 عشق تو مشکل ہے اے دل کون کہتا سہل ہے
- 39 ہوتے ہوتے چشم سے آج اشک باری رہ گئی
- 40 ہجر کے ہاتھ سے اب خاک پڑے جینے میں
- 41 ہوا میں پھرتے ہو کیا حرص اور ہوا کے لیے
- 42 ہم یہ تو نہیں کہتے کہ غم کہہ نہیں سکتے
- 43 ہم نے تری خاطر سے دل زار بھی چھوڑا
- 44 ہے دل کو جو یاد آئی فلک پیر کسی کی
- 45 گئی یک بہ یک جو ہوا پلٹ نہیں دل کو میرے قرار ہے
- 46 گالیاں تنخواہ ٹھہری ہے اگر بٹ جائے گی
- 47 دیکھو انساں خاک کا پتلا بنا کیا چیز ہے
- 48 دیکھ دل کو مرے او کافر بے پیر نہ توڑ
- 49 بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوں
- 50 بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی