search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
بہادرشاہ ظفر
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
زلف جو رخ پر ترے اے مہر طلعت کھل گئی
یہ قصہ وہ نہیں تم جس کو قصہ خواں سے سنو
یاں خاک کا بستر ہے گلے میں کفنی ہے
یا مجھے افسر شاہانہ بنایا ہوتا
وہ سو سو اٹھکھٹوں سے گھر سے باہر دو قدم نکلے
واقف ہیں ہم کہ حضرت غم ایسے شخص ہیں
واں رسائی نہیں تو پھر کیا ہے
واں ارادہ آج اس قاتل کے دل میں اور ہے
ٹکڑے نہیں ہیں آنسوؤں میں دل کے چار پانچ
تفتہ جانوں کا علاج اے اہل دانش اور ہے
شمشیر برہنہ مانگ غضب بالوں کی مہک پھر ویسی ہی
شانے کی ہر زباں سے سنے کوئی لاف زلف
سب رنگ میں اس گل کی مرے شان ہے موجود
رخ جو زیر سنبل پر پیچ و تاب آ جائے گا
قاروں اٹھا کے سر پہ سنا گنج لے چلا
پان کھا کر سرمہ کی تحریر پھر کھینچی تو کیا
نباہ بات کا اس حیلہ گر سے کچھ نہ ہوا
نہیں عشق میں اس کا تو رنج ہمیں کہ قرار و شکیب ذرا نہ رہا
نہ اس کا بھید یاری سے نہ عیاری سے ہاتھ آیا
نہ درویشوں کا خرقہ چاہیئے نہ تاج شاہانا
نہ دو دشنام ہم کو اتنی بد خوئی سے کیا حاصل
نہ دائم غم ہے نے عشرت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے
محبت چاہیے باہم ہمیں بھی ہو تمہیں بھی ہو
مر گئے اے واہ ان کی ناز برداری میں ہم
میں ہوں عاصی کہ پر خطا کچھ ہوں
لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں
کیونکہ ہم دنیا میں آئے کچھ سبب کھلتا نہیں
کیونکر نہ خاکسار رہیں اہل کیں سے دور
کیا کچھ نہ کیا اور ہیں کیا کچھ نہیں کرتے
کیا کہوں دل مائل زلف دوتا کیونکر ہوا
خواہ کر انصاف ظالم خواہ کر بیداد تو
کریں گے قصد ہم جس دم تمہارے گھر میں آویں گے
کافر تجھے اللہ نے صورت تو پری دی
جگر کے ٹکڑے ہوئے جل کے دل کباب ہوا
جب کہ پہلو میں ہمارے بت خود کام نہ ہو
جب کبھی دریا میں ہوتے سایہ افگن آپ ہیں
اتنا نہ اپنے جامے سے باہر نکل کے چل
عشق تو مشکل ہے اے دل کون کہتا سہل ہے
ہوتے ہوتے چشم سے آج اشک باری رہ گئی
ہجر کے ہاتھ سے اب خاک پڑے جینے میں
ہوا میں پھرتے ہو کیا حرص اور ہوا کے لیے
ہم یہ تو نہیں کہتے کہ غم کہہ نہیں سکتے
ہم نے تری خاطر سے دل زار بھی چھوڑا
ہے دل کو جو یاد آئی فلک پیر کسی کی
گئی یک بہ یک جو ہوا پلٹ نہیں دل کو میرے قرار ہے
گالیاں تنخواہ ٹھہری ہے اگر بٹ جائے گی
دیکھو انساں خاک کا پتلا بنا کیا چیز ہے
دیکھ دل کو مرے او کافر بے پیر نہ توڑ
بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوں
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی