باقی صدیقی

شاعر

تعارف شاعری

تعارف

ِ

باقی صدیقی اردو اور پوٹھوہاری ادب کے اُن ممتاز شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے سادگی، خلوص اور انسانی احساسات کو اپنی شاعری کا محور بنایا۔ ان کا اصل نام محمد افضل قریشی تھا اور وہ 20 دسمبر 1905ء کو ضلع راولپنڈی کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی زندگی معاشی تنگی اور ذاتی مشکلات سے عبارت رہی، جس کے باعث اعلیٰ تعلیم ممکن نہ ہو سکی، مگر ان حالات نے ان کی تخلیقی حس کو مزید نکھارا۔ وہ کم عمری ہی سے شعر و سخن کی طرف مائل ہو گئے اور جلد ہی مشاعروں کے ذریعے ادبی حلقوں میں پہچان بنانے لگے۔

ِ

باقی صدیقی کا شعری کمال اس بات میں ہے کہ انہوں نے دیہی زندگی، محبت، محرومی، وقت کی ناپائیداری اور انسانی کرب کو نہایت سادہ مگر اثر انگیز انداز میں بیان کیا۔ انہوں نے اردو کے ساتھ ساتھ پوٹھوہاری زبان میں بھی قابلِ قدر شاعری کی، جو عوامی سطح پر بے حد مقبول ہوئی۔ ان کے شعری مجموعے جامِ جم، دار و رسن، زخمِ بہار اور پوٹھوہاری مجموعہ کچے گھڑے ان کے فکری اور فنی ارتقا کی واضح مثالیں ہیں۔ آزادی کے بعد وہ ریڈیو پاکستان، راولپنڈی سے بھی وابستہ رہے، جہاں ان کے لکھے ہوئے گیت اور نظمیں عام سامعین کے دلوں تک پہنچیں۔

ِ

ذاتی زندگی میں باقی صدیقی نہایت سادہ مزاج اور گوشہ نشین انسان تھے۔ انہوں نے شادی نہیں کی اور اپنی زندگی کا بڑا حصہ تنہائی اور خودداری کے ساتھ گزارا۔ 8 جنوری 1972ء کو ان کا انتقال ہوا، مگر ان کا شعری سرمایہ آج بھی زندہ ہے اور اردو ادب میں ایک نرم، درد مند اور سچے لہجے کی نمائندگی کرتا ہے۔ باقی صدیقی کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ ان کی شاعری خواص کے ساتھ ساتھ عوام کے دلوں میں بھی یکساں جگہ بناتی ہے، اور یہی خوبی انہیں اردو ادب کی روایت میں ایک منفرد اور معتبر مقام عطا کرتی ہے۔