کلامِ شاعر
- 01 تیرے افسانے سناتے ہیں مجھے
- 02 باتیں تو شنو ، ذوق خریدار تو دیکھو
- 03 ڈر کے حالات سے دامن کو بچانے والے
- 04 جوش جنوں میں زیست کے سارے نشاں جلے
- 05 گھیر کے بے کسی نے مارا
- 06 زندگی دل کا سکوں چاہتی ہے
- 07 وَگناں پیا سواں ڈھولا
- 08 اپنی تنہائی پہ مر جانا پڑا
- 09 اس کار گہ رنگ میں ہم تنگ نہیں کیا
- 10 مرحلہ دل کا نہ تسخیر ہوا
- 11 دل کے لیے حیات کا پیغام بن گئیں
- 12 جنوں کی راکھ سے منزل میں رنگ کیا آئے
- 13 مرحلے زیست کے آسان ہوئے
- 14 ندی کے اس پار کھڑا اک پیڑ اکیلا (ردیف .. ہ)
- 15 کیا پتا ہم کو ملا ہے اپنا
- 16 ہر طرف بکھر ہیں رنگیں سائے
- 17 ہم ذرے ہیں خاک رہ گزر کے
- 18 وہ نظر آئینہ فطرت ہی سہی
- 19 دل سے باہر ہیں خریدار ابھی
- 20 ایسا وار پڑا سر کا
- 21 تری نگاہ کا انداز کیا نظر آیا
- 22 ہم کہاں آئنہ لے کر آئے
- 23 وفا کے زخم ہم دھونے نہ پائے
- 24 اعتبار نظر کریں کیسے
- 25 ہم تو دنیا سے بد گماں ٹھہرے
- 26 رسم سجدہ بھی اٹھا دی ہم نے
- 27 دل جنس محبت کا خریدار نہیں ہے
- 28 رنگ دل رنگ نظر یاد آیا
- 29 خبر کچھ ایسی اڑائی کسی نے گاؤں میں
- 30 تارے درد کے جھونکے بن کر آتے ہیں
- 31 وہ اندھیرا ہے جدھر جاتے ہیں ہم
- 32 کہتا ہے ہر مکیں سے مکاں بولتے رہو
- 33 وہ مقام دل و جاں کیا ہوگا
- 34 ان کا یا اپنا تماشا دیکھو
- 35 صبح کا بھید ملا کیا ہم کو
- 36 وقت رستے میں کھڑا ہے کہ نہیں
- 37 اپنی دھوپ میں بھی کچھ جل
- 38 یوں بھی ہونے کا پتا دیتے ہیں
- 39 تم کب تھے قریب اتنے میں کب دور رہا ہوں
- 40 آستیں میں سانپ اک پلتا رہا
- 41 کیوں صبا کی نہ ہو رفتار غلط
- 42 داغ دل ہم کو یاد آنے لگے
- 43 زندگی حسن بام و در تو نہیں