search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
باقی صدیقی
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
تیرے افسانے سناتے ہیں مجھے
باتیں تو شنو ، ذوق خریدار تو دیکھو
ڈر کے حالات سے دامن کو بچانے والے
جوش جنوں میں زیست کے سارے نشاں جلے
گھیر کے بے کسی نے مارا
زندگی دل کا سکوں چاہتی ہے
وَگناں پیا سواں ڈھولا
اپنی تنہائی پہ مر جانا پڑا
اس کار گہ رنگ میں ہم تنگ نہیں کیا
مرحلہ دل کا نہ تسخیر ہوا
دل کے لیے حیات کا پیغام بن گئیں
جنوں کی راکھ سے منزل میں رنگ کیا آئے
مرحلے زیست کے آسان ہوئے
ندی کے اس پار کھڑا اک پیڑ اکیلا (ردیف .. ہ)
کیا پتا ہم کو ملا ہے اپنا
ہر طرف بکھر ہیں رنگیں سائے
ہم ذرے ہیں خاک رہ گزر کے
وہ نظر آئینہ فطرت ہی سہی
دل سے باہر ہیں خریدار ابھی
ایسا وار پڑا سر کا
تری نگاہ کا انداز کیا نظر آیا
ہم کہاں آئنہ لے کر آئے
وفا کے زخم ہم دھونے نہ پائے
اعتبار نظر کریں کیسے
ہم تو دنیا سے بد گماں ٹھہرے
رسم سجدہ بھی اٹھا دی ہم نے
دل جنس محبت کا خریدار نہیں ہے
رنگ دل رنگ نظر یاد آیا
خبر کچھ ایسی اڑائی کسی نے گاؤں میں
تارے درد کے جھونکے بن کر آتے ہیں
وہ اندھیرا ہے جدھر جاتے ہیں ہم
کہتا ہے ہر مکیں سے مکاں بولتے رہو
وہ مقام دل و جاں کیا ہوگا
ان کا یا اپنا تماشا دیکھو
صبح کا بھید ملا کیا ہم کو
وقت رستے میں کھڑا ہے کہ نہیں
اپنی دھوپ میں بھی کچھ جل
یوں بھی ہونے کا پتا دیتے ہیں
تم کب تھے قریب اتنے میں کب دور رہا ہوں
آستیں میں سانپ اک پلتا رہا
کیوں صبا کی نہ ہو رفتار غلط
داغ دل ہم کو یاد آنے لگے
زندگی حسن بام و در تو نہیں