search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
باصر سلطان کاظمی
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
رہ عشق میں کب دیا کچھ سنائی دکھائی
دشمنی جس کی دوستی جیسی
کہا انہوں نے کہ ہو تم تو کام سے فارغ
جنگل میں مور
گو کہ پیچھے بہت قطار میں تھے
چھوٹا سا ایک کام ہمارا نہیں کیا
بحردل میں یہ جو کیفیت ہیجانی ہے
کیا زندگی ہے اپنی مگر زندگی تو ہے
ایک دروازہ کیا کھلا باہر
دور سایا سا ہے کیا پھولوں میں
ہم کامیاب ہو کے بھی ناکام رہ گئے
ہمارے ساتھ زمانہ کیا کرے کچھ بھی
کیسی محفل میں اے دل تجھ کو لایا ہوں دیکھ ذرا
کرتے نہ ہم جو اہل وطن اپنا گھر خراب
بیتے ہوئے دنوں کی فضا یاد آ گئی
ہوتے ہیں جو سب کے وہ کسی کے نہیں ہوتے
اِتنے کڑوے دور میں شیریں مقالی کس طرح
کہاں سیاست اغیار نے ہلاک کیا
کتنا کام کریں گے
تھا جو کبھی اک شوق فضول
کرنا ہے گر مجھے شکار لا کوئی جال مختلف
بیٹھے رہیں گے وہ تو ہمیشہ دبا کے بات
بادل ہے اور پھول کھلے ہیں سبھی طرف
دم صبح آندھیوں نے جنہیں رکھ دیا مسل کے
موجب رنگ چمن خون شہیداں نکلا
خط میں کیا کیا لکھوں یاد آتی ہے ہر بات پہ بات
کتنی ہی بے ضرر سہی تیری خرابیاں
دل لگا لیتے ہیں اہل دل وطن کوئی بھی ہو
کہاں ملے گا وہ مجھ سے اگر یہاں بھی رہے
یہ نہیں ہے کہ تجھے میں نے پکارا کم ہے
ہزار کہتا رہا میں کہ یار ایک منٹ