کلامِ شاعر
- 01 رہ عشق میں کب دیا کچھ سنائی دکھائی
- 02 دشمنی جس کی دوستی جیسی
- 03 کہا انہوں نے کہ ہو تم تو کام سے فارغ
- 04 جنگل میں مور
- 05 گو کہ پیچھے بہت قطار میں تھے
- 06 چھوٹا سا ایک کام ہمارا نہیں کیا
- 07 بحردل میں یہ جو کیفیت ہیجانی ہے
- 08 کیا زندگی ہے اپنی مگر زندگی تو ہے
- 09 ایک دروازہ کیا کھلا باہر
- 10 دور سایا سا ہے کیا پھولوں میں
- 11 ہم کامیاب ہو کے بھی ناکام رہ گئے
- 12 ہمارے ساتھ زمانہ کیا کرے کچھ بھی
- 13 کیسی محفل میں اے دل تجھ کو لایا ہوں دیکھ ذرا
- 14 کرتے نہ ہم جو اہل وطن اپنا گھر خراب
- 15 بیتے ہوئے دنوں کی فضا یاد آ گئی
- 16 ہوتے ہیں جو سب کے وہ کسی کے نہیں ہوتے
- 17 اِتنے کڑوے دور میں شیریں مقالی کس طرح
- 18 کہاں سیاست اغیار نے ہلاک کیا
- 19 کتنا کام کریں گے
- 20 تھا جو کبھی اک شوق فضول
- 21 کرنا ہے گر مجھے شکار لا کوئی جال مختلف
- 22 بیٹھے رہیں گے وہ تو ہمیشہ دبا کے بات
- 23 بادل ہے اور پھول کھلے ہیں سبھی طرف
- 24 دم صبح آندھیوں نے جنہیں رکھ دیا مسل کے
- 25 موجب رنگ چمن خون شہیداں نکلا
- 26 خط میں کیا کیا لکھوں یاد آتی ہے ہر بات پہ بات
- 27 کتنی ہی بے ضرر سہی تیری خرابیاں
- 28 دل لگا لیتے ہیں اہل دل وطن کوئی بھی ہو
- 29 کہاں ملے گا وہ مجھ سے اگر یہاں بھی رہے
- 30 یہ نہیں ہے کہ تجھے میں نے پکارا کم ہے
- 31 ہزار کہتا رہا میں کہ یار ایک منٹ