search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
داغ دہلوی
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
زاہد نہ کہہ بری کہ یہ مستانے آدمی ہیں
یہ بات بات میں کیا نازکی نکلتی ہے
وہ زمانہ نظر نہیں آتا
عذر ان کی زبان سے نکلا
عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
ان کے اک جاں نثار ہم بھی ہیں
تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا
تم آئینہ ہی نہ ہر بار دیکھتے جاؤ
تیری صورت کو دیکھتا ہوں میں
تماشائے دیر و حرم دیکھتے ہیں
سبق ایسا پڑھا دیا تو نے
سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیں
ساز یہ کینہ ساز کیا جانیں
صاف کب امتحان لیتے ہیں
رنج کی جب گفتگو ہونے لگی
پھرے راہ سے وہ یہاں آتے آتے
ناروا کہئے ناسزا کہئے
ملاتے ہو اسی کو خاک میں جو دل سے ملتا ہے
مزے عشق کے کچھ وہی جانتے ہیں
لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے
لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا
خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا
کون سا طائر گم گشتہ اسے یاد آیا
کہتے ہیں جس کو حور وہ انساں تمہیں تو ہو
کعبے کی ہے ہوس کبھی کوئے بتاں کی ہے
جو ہو سکتا ہے اس سے وہ کسی سے ہو نہیں سکتا
جلوے مری نگاہ میں کون و مکاں کے ہیں
اس نہیں کا کوئی علاج نہیں
اس ادا سے وہ جفا کرتے ہیں
ان آنکھوں نے کیا کیا تماشا نہ دیکھا
ادھر دیکھ لینا ادھر دیکھ لینا
غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا
غم سے کہیں نجات ملے چین پائیں ہم
غیر کو منہ لگا کے دیکھ لیا
فلک دیتا ہے جن کو عیش ان کو غم بھی ہوتے ہیں
دل پریشان ہوا جاتا ہے
دل کو کیا ہو گیا خدا جانے
دل گیا تم نے لیا ہم کیا کریں
دل ناکام کے ہیں کام خراب
دل چرا کر نظر چرائی ہے
دیکھ کر جوبن ترا کس کس کو حیرانی ہوئی
بھویں تنتی ہیں خنجر ہاتھ میں ہے تن کے بیٹھے ہیں
بات میری کبھی سنی ہی نہیں
باقی جہاں میں قیس نہ فرہاد رہ گیا
عجب اپنا حال ہوتا جو وصال یار ہوتا
اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا دل کا
ابھی ہماری محبت کسی کو کیا معلوم
اب وہ یہ کہہ رہے ہیں مری مان جائیے
آرزو ہے وفا کرے کوئی
آپ کا اعتبار کون کرے