کلامِ شاعر
- 01 زاہد نہ کہہ بری کہ یہ مستانے آدمی ہیں
- 02 یہ بات بات میں کیا نازکی نکلتی ہے
- 03 وہ زمانہ نظر نہیں آتا
- 04 عذر ان کی زبان سے نکلا
- 05 عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
- 06 ان کے اک جاں نثار ہم بھی ہیں
- 07 تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا
- 08 تم آئینہ ہی نہ ہر بار دیکھتے جاؤ
- 09 تیری صورت کو دیکھتا ہوں میں
- 10 تماشائے دیر و حرم دیکھتے ہیں
- 11 سبق ایسا پڑھا دیا تو نے
- 12 سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیں
- 13 ساز یہ کینہ ساز کیا جانیں
- 14 صاف کب امتحان لیتے ہیں
- 15 رنج کی جب گفتگو ہونے لگی
- 16 پھرے راہ سے وہ یہاں آتے آتے
- 17 ناروا کہئے ناسزا کہئے
- 18 ملاتے ہو اسی کو خاک میں جو دل سے ملتا ہے
- 19 مزے عشق کے کچھ وہی جانتے ہیں
- 20 لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے
- 21 لے چلا جان مری روٹھ کے جانا تیرا
- 22 خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا
- 23 کون سا طائر گم گشتہ اسے یاد آیا
- 24 کہتے ہیں جس کو حور وہ انساں تمہیں تو ہو
- 25 کعبے کی ہے ہوس کبھی کوئے بتاں کی ہے
- 26 جو ہو سکتا ہے اس سے وہ کسی سے ہو نہیں سکتا
- 27 جلوے مری نگاہ میں کون و مکاں کے ہیں
- 28 اس نہیں کا کوئی علاج نہیں
- 29 اس ادا سے وہ جفا کرتے ہیں
- 30 ان آنکھوں نے کیا کیا تماشا نہ دیکھا
- 31 ادھر دیکھ لینا ادھر دیکھ لینا
- 32 غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا
- 33 غم سے کہیں نجات ملے چین پائیں ہم
- 34 غیر کو منہ لگا کے دیکھ لیا
- 35 فلک دیتا ہے جن کو عیش ان کو غم بھی ہوتے ہیں
- 36 دل پریشان ہوا جاتا ہے
- 37 دل کو کیا ہو گیا خدا جانے
- 38 دل گیا تم نے لیا ہم کیا کریں
- 39 دل ناکام کے ہیں کام خراب
- 40 دل چرا کر نظر چرائی ہے
- 41 دیکھ کر جوبن ترا کس کس کو حیرانی ہوئی
- 42 بھویں تنتی ہیں خنجر ہاتھ میں ہے تن کے بیٹھے ہیں
- 43 بات میری کبھی سنی ہی نہیں
- 44 باقی جہاں میں قیس نہ فرہاد رہ گیا
- 45 عجب اپنا حال ہوتا جو وصال یار ہوتا
- 46 اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا دل کا
- 47 ابھی ہماری محبت کسی کو کیا معلوم
- 48 اب وہ یہ کہہ رہے ہیں مری مان جائیے
- 49 آرزو ہے وفا کرے کوئی
- 50 آپ کا اعتبار کون کرے