عجب طرح کے مسائل ہیں، فرد کیا شئے ہے
پہاڑ ہو تو لرز جائے مرد کیا شئے ہے
میرا تو خیر خزاؤں سے واسطہ ہے مگر
خبر نہیں تیرے چہرے پہ زرد کیا شئے ہے
چھپاکے رکھتی ہے لوگوں سے مجھکو ماں کی طرح
تمہیں پتہ ہی نہیں ہے یہ گرد کیا شئے ہے
میں سرد آہیں تسلسل سے بھرتا رہتا ہوں
نجانے سینے میں اس درجہ سرد کیا شئے ہے
جو زخم بانٹتے پھرتے ہیں گلیوں گلیوں انہیں
سمجھ بھی آئے تو کیسے کہ درد کیا شئے ہے
دانش نقوی