اس انتظار میں ہے آسماں چراغ جلے
غبار ظلم چھٹے بارھواں چراغ جلے
یہ منکرین چراغ و ضیا بھی جانتے ہیں
کہاں پہ تیرگی اتری کہاں چراغ جلے
کہا حسین نے تاریکی بڑھتی جاتی ہے
سو اب سنا علی اکبر اذاں٫چراغ جلے!!!
بوقت شام چلی تھی نجات کی کشتنی
سخی نے کھول دیے بادباں چراغ جلے
زمین کرب و بلا پہ اندھیرے چھپتے پھرے
میرے حسین کے جب نوجواں چراغ جلے
دانش نقوی