دانش نقوی

شاعر

تعارف شاعری

ایسا نہیں سمجھنا کہیں جا رہا ہوں میں

ایسا نہیں سمجھنا کہیں جا رہا ہوں میں
تم میرے پاس بیٹھو ابھی آ رہا ہوں میں
اے شخص تھوڑی دیر مجھے حوصلہ نہ دے
کتنے دنوں کے بعد تو گھبرا رہا ہوں میں
اب شرم آ رہی ہے مجھے چیختے ہوئے
کچھ روز ایسی باتوں پہ ہنستا رہا ہوں میں
مسجد خدا کا گھر ہے یہی بات سوچ کر
مسجد کے ہر ستون سے ٹکرا رہا ہوں میں
حل ہو تو جائے گا یہ جدائی کا مسئلہ
فی الحال اپنے آپ کو سمجھا رہا ہوں میں
دانش گزشتہ سال کی تصویر دیکھ کر
حیران ہو رہا ہوں کہ ایسا رہا ہوں میں

دانش نقوی