ہچکچاہٹ بھی مصیبت ہی بنی جاتی ہے
بولنے لگتا ہوں آواز چلی جاتی ہے
دیکھ اے پیڑ تو اس وقت کوئ بات نہ کر
شام کے وقت پرندوں کی سنی جاتی ہے
آنا چاہو تو محبت کی طرف سے آنا
مجھ میں ہر سمت یہی ایک گلی جاتی ہے
اپنی تکمیل کروں یا کہ تعلق دیکھوں؟
پورا ہوتا ہوں تو برسوں کی کمی جاتی ہے
زندگی اب تو مجھے تیری ضرورت ہی نہیں
اب تو کس واسطے آسان ہوئی جاتی ہے
دانش نقوی