جب اس کی آنکھ نے ہر سمت روشنی کی تھی
تو پہلی بار چراغوں نے تیرگی کی تھی
میں چاہتا تھا میرا اختتام ہو تجھ پر
سو تیرے ساتھ محبت بھی آخری کی تھی
یقین کر کہ وہ چہروں کے جیسا چہرہ نہ تھا
بنانے والے نے رنگوں سے شاعری کی تھی
ذرا خیال سے رہنا کہ پچھلی باری بھی
ہمارے اپنے ہی ساتھی نے مخبری کی تھی
بس اب تو اپنی کمر پر ہیں پہلے ہاتھوں میں
کبھی کسی کی کمر تھی کبھی کسی کی تھی
یقین کر کہ مجھے کوئ بھی ملال نہ تھا
میں رو رہا تھا مگر کیفیت ہنسی کی تھی
دانش نقوی