دانش نقوی

شاعر

تعارف شاعری

جہاں کہیں سے گزرنا علی علی کرنا

جہاں کہیں سے گزرنا علی علی کرنا
بس اپنی موج میں رہنا علی علی کرنا
یہی سکھایا گیا ہے یہی سکھاتا ہوں
کسی کو کچھ نہیں کہنا علی علی کرنا
اگر چراغ محبت جلا لیا ہے تو پھر
ہوا کے سامنے چلنا علی علی کرنا
یہ خود ہوا ہے، ملنگوں میں طے نہیں پایا
کہ قریہ قریہ بکھرنا علی علی کرنا
ہمارے سامنے ہوتے ہیں واقعات ایسے
کسی کا گرنا، سنبھلنا، علی علی کرنا
فراز دار سے میثم صدائیں دیتے ہیں
کبھی کسی سے نہ ڈرنا علی علی کرنا
علیہہ السلام

دانش نقوی