جتنا اونچا بولے اس سے اتنی خوشبو آتی ہے
وہ غصے میں بات کرے تو تیکھی خوشبو آتی ہے
آسانی سے کب آتا ہے وہ سانسوں کے گھیرے میں
دوسری بار ملو تو اس سے پہلی خوشبو آتی ہے
اس کے آنے سے کمرے میں دو چیزیں آجاتی ہیں
چین آتا ہے ساتھ میں ہلکی ہلکی خوشبو آتی ہے
ایسا زہر بھرا ہے اس سے جڑی ہوئی ہر اک شئے میں
اس کے باغیچے سے گزرو نیلی خوشبو آتی ہے
چاہے اپنوں پر پھینکو یا پھر اپنوں کی قبروں پر
پھول تو دانش پھول ہیں ان سے پھر بھی خوشبو آتی ہے
دانش نقوی