کچھ اس لیے اتارا نہیں جا رہا تھا میں
چاروں طرف پکارا نہیں جا رہا تھا میں
موجودہ نے گزشتہ کو وہ بد دعائیں دیں
بگڑا ہوا سدھارا نہیں جا رہا تھا میں
کم کرنی پڑ گئی مجھے معیاد جسم و جاں
اک شخص سے گزارا نہیں جا رہا تھا میں
شہزادی نے دعا دی کہا جنگ فتح کر
پھر لشکروں سے مارا نہیں جا رہا تھا میں
پہنا گیا کچھ ایسے مجھے کھینچ تان کر
پہنا ہوا اتارا نہیں جا رہا تھا میں
دانش نقوی