کر رہی ہیں زیاں عجیب عجیب
آپ کی داسیاں عجیب عجیب
کھینچتی ہیں گلی سے اندر کو
ادھ کھلی کھڑکیاں عجیب عجیب
بج رہی ہیں ہمارے آنے پر !!!!
دشت میں سیٹیاں عجیب عجیب
بے طرح ہم نے اسکے ہاتھوں کی
کھائی ہیں روٹیاں عجیب عجیب
رات بھر مچ رہا رچاو میں
جل گئی لکڑیاں عجیب عجیب
اس کے ہنسنے سے پیدا ہوتی ہیں
باغ میں تتلیاں عجیب عجیب
دانش نقوی