میں ایک رات ہوا اس قدر خفا خود سے
پلٹ کے بھی نہیں دیکھا چلا گیا خود سے
بس التجائیہ نظروں سے دیکھ لیتا ہوں
میں آج تک کبھی سینے نہیں لگا خود سے
فصیل جسم پہ اٹکا ہوا تھا میں کل شب
کسی نے ہاتھ لگایا تو گر پڑا خود سے
کسی کے کہنے پہ شاید یہ کائنات بنی
یہ کام لگتا نہیں ہے کیا ہوا خود سے
جلانے پڑتے ہیں پہلے سبھی گھروں میں چراغ
ہمارے شہر میں چلتی نہیں ہوا خود سے
دانش نقوی