میں ہر کسی کو یہی بتاتا ہوں یار اچھی گزر رہی ہے
مگر کبھی تم بھی پوچھ لیتے سناو کیسی گزر رہی یے
وہ میرے کاندھے پہ سر ٹکائے نہ جانے کن فیصلوں میں گم ہے
ندی میں گہرا سکوت ہے اور ایک کشتی گزر رہی ہے
اسے کوئی مسئلہ نہیں ہے مجھے مسائل کا سامنا ہے
اگرچہ ہم دونوں پر یہ آفت تو ایک جیسی گزر رہی ہے
یہ ہم کو بزدل سمجھنے والے ہماری مشکل نہیں سمجھتے
نئے مسافر ہیں اور صحرا سے تیز آندھی گزر رہی ہے
میں ان دنوں اپنے حصے کے کام پوری محنت سے کر رہا ہوں
مگر سبھی کی نظر سے میری پرانی غلطی گزر رہی ہے
دانش نقوی