ندیاں، پیڑ، پرندے، جنگل، صحرا، سبزہ زاروں کی
تیرے صدقے خیر ہو تیرے سارے رشتہ داروں کی
ہولے ہولے لاد چلیں گے اپنے اپنے سفروں کو
عارضی رونق دیکھ رہے ہو، بستی ہے بنجاروں کی
وحشت، گھر کی ویرانی،آزار، گھٹن اور خاموشی
ایک سے جان چھڑا لوں بس پھر خیر ہے باقی چاروں کی
سارے شہر سے پہلے ان پر آفت نازل ہوتی ہے
کون سمجھ سکتا ہے مشکل ان اونچے میناروں کی
دیکھ زمین کا دکھ ہی اب تو جان پہ بھاری پڑتا ہے
بچپن میں اچھی لگتی تھیں باتیں چاند ستاروں
کی
دانش نقوی