نہ ان چراغوں نہ ان قمقموں کو دیکھنا ہے
بس ایک بار انہی طاقچوں کو دیکھنا ہے
بتائے کون یہ سوکھے ہوئے درختوں کو
کہ تم نے صرف گزرتے ہووں کو دیکھنا ہے
سفر سے جیسے خد و خال لے کے پہنچیں گے
گھروں نے ہم کو تو ہم نے گھروں کو دیکھنا ہے
تو میرے باندھے ہوئے ہاتھ موڑ دیتا ہے
تجھے تو صرف میرے آنسووں کو دیکھنا ہے
یہ شہر ویسے بھی مردہ شمار ہوتا ہے
کسی نے کیا تیرے زندہ دلوں کو دیکھنا ہے
دانش نقوی