پاکیزہ درگاہوں جیسی صاف اور سچی لگتی ہیں
اس کی آنکھیں ہر اک شخص کو اپنی اپنی لگتی ہیں
شام ڈھلے ہی ان گلیوں میں سبزہ اگنے لگتا ہے
اس کے شہر کی سب دیواریں رات کو کچی لگتی ہیں
قدرت کا تو کام نہیں یہ کھڑکی کافی اندر ہے
شیشے سے بارش کی بوندیں سوچی سمجھی لگتی ہیں
وہ مجھ کو برباد بھی کردے لیکن میرے پاس رہے
کچھ چیزیں نقصان بھی دیں تو پھر بھی اچھی لگتی ہیں
پہلے خوف بہت آتا تھا وحشت اور ویرانی سے
خیر سے اب تو ایسی باتیں چھوٹی موٹی لگتی ہیں
میں بھی تلخ سمجھتا تھا پر چکھنے سے احساس ہوا
کتنے میٹھے لب ہیں جن کی باتیں کڑوی لگتی ہیں
دانش نقوی