search
شعرا
ایکس سپیس
سپیکرز
ہمارے متعلق
رابطہ کیجیے
دانش نقوی
شاعر
تعارف
شاعری
کلام
مشکل دن بھی ائے لیکن فرق نہ آیا یاری میں
یہ آپ جانیں کہ رکھنا ہے یا نہیں رکھنا
راہ میں پڑتی تھی دیوار نہیں دیکھ سکا
مصیبتیں سر برہنہ ہونگی عقیدتیں بے لباس ہونگی
کچھ بھی پوچھا نہیں جاتا نہ سنا جاتا ہے
حد سے بڑھ کر ہو تو ویرانی سے خوش ہوتے ہیں
جب اس کی آنکھ نے ہر سمت روشنی کی تھی
راہ میں پڑتی تھی دیوار نہیں دیکھ سکا
یوں بھی آنکھوں میں کسی خواب کا ریشہ نہ بنے
یوں بھی آنکھوں میں کسی خواب کا ریشہ نہ بنے
اسانوں کے پتہ کیہڑی مسجد تے کیہہ کلیسے تے کیہڑے مندر
لبوں کو دیکھ کے لگتا نہیں، مگر چپ ھے
خود پسندی سکھا رہا ہوں میں
یہ جو کوئی کام بھی مستقل نہیں ہو رہا
جتنا اونچا بولے اس سے اتنی خوشبو آتی ہے
یہ تو جو آ کے بڑا غمگسار بنتا ہے
اسی بات کا میرے دل سے ڈر نہیں جا رہا
کچھ اس لیے اتارا نہیں جا رہا تھا میں
کبھی کبھی تو نہ ہوگی کبھی ہوا کرے گی
اس انتظار میں ہے آسماں چراغ جلے
خاموشی کا منظر ہو
اشک بے ساختہ پتھر سے نکل آتے ہیں
نہ ان چراغوں نہ ان قمقموں کو دیکھنا ہے
قہقہ ضبط کا معیار بنا رکھا ہے
لشکر سے پرے آخری صف تک نہیں پہنچی
جہاں کہیں سے گزرنا علی علی کرنا
وہ کتنی دیر کھڑا سوچتا رہا مجھ کو
تمہاری جانب بھی کیا یونہی بدحواس آتی ہے تم سناو؟
سارا دن رابطے میں رہتا ہے
وہ جب ملا تھا ہوس سے بھی جی بھرا ہوا تھا
یوں بھی آنکھوں میں کسی خواب کا ریشہ نہ بنے
کر رہی ہیں زیاں عجیب عجیب
یار یہ کیسی بزدلی کر لی
تمہاری جانب بھی کیا یونہی بدحواس آتی ہے تم سناو؟
تمہاری آنکھ ہے دریائی، کھینچ لیتی ہے
سارا دن رابطے میں رہتا ہے
میں ایک رات ہوا اس قدر خفا خود سے
اسی بات کا میرے دل سے ڈر نہیں جا رہا
پہلے پہلے نہیں لگتی تھی ابھی لگتی ہے
کبھی کبھی تو نہ ہوگی کبھی ہوا کرے گی
لشکر سے پرے آخری صف تک نہیں پہنچی
وہ جب ملا تھا ہوس سے بھی جی بھرا ہوا تھا
میں ہر کسی کو یہی بتاتا ہوں یار اچھی گزر رہی ہے
عجب طرح کے مسائل ہیں، فرد کیا شئے ہے
کوئ ولی ہوں اور نہ طریقت ہے میرے پاس
ڈھیر سامان نکل آیا ہے کم رہتا ہے
شہر میں چاروں طرف ایک سڑک جاتی ہے
نظر تو آیا مگر جابجا نہیں آیا
حد سے بڑھ کر ہو تو ویرانی سے خوش ہوتے ہیں
مصیبتیں سر برہنہ ہونگی عقیدتیں بے لباس ہونگی
ماحول مناسب ہو تو اوپر نہیں جاتے
کچھ بھی پوچھا نہیں جاتا نہ سنا جاتا ہے
اسانوں کے پتہ کیہڑی مسجد تے کیہہ کلیسے
وہ جان بوجھ کے مجھ کو اداس رکھتا ہے
رونا دھونا ڈال نہ اے دل آسانی بھی آئے گی
باندھ لی جاتی کمر کاٹ دیے جاتے تھے
تجھ کو لگتا ہے کہ لوگوں کی طرح سوچتا ہوں
کبھی کبھی تو نہ ہوگی کبھی ہوا کرے گی
جہاں سے تجھ کو روانہ کیا تھا، کہتے ہیں
بس اسی بات سے گھبرایا ہوا لگتا ہوں
بچا لیا ہے چلو کچھ بھرم رکے ہوئے ہیں
وہ جانے کس بات پہ میرے سینے لگ کر رویا تھا
تمہاری آنکھیں حیا کا نظام، ویسے بھی
رونا دھونا ڈال نہ اے دل آسانی بھی آئے گی
یہ صرف ہم ہی سمجھتے ہیں جیسے اترے ہیں
رکھتے ہیں، مگر اتنا زیادہ نہیں رکھتے
سنی ہے میں نے کسی کی لگی ہوئی آواز
بوقت شام مکمل حساب دیتی ہے
كسی کو جھوٹی نمائشوں کا کسی کو شہرت کا مسئلہ ہے
گناہ بعد میں جا کر معاف ہوتا تھا
کوئی تصور ہے اور نہ تصویر٬ صرف رنگوں میں بٹ رہی ہے
پڑھوں گا پیچھے، امامت نہیں کروں گا میں
ندیاں، پیڑ، پرندے، جنگل، صحرا، سبزہ زاروں کی
درون جسم کی چیخ و پکار سے پہلے
ایسا نہیں سمجھنا کہیں جا رہا ہوں میں
پاکیزہ درگاہوں جیسی صاف اور سچی لگتی ہیں
ہچکچاہٹ بھی مصیبت ہی بنی جاتی ہے
بے گھری ساتھ ہی ہوتی ہے جدھر جاتے ہیں
کسی کو اپنی، کسی کو اپنی، کسی کو اپنی پڑی ہوئی ہے
یوں بھی آنکھوں میں کسی خواب کا ریشہ نہ بنے
وہ کتنی دیر کھڑا سوچتا رہا مجھ کو
سب لوگ کہانی میں ہی مصروف رہے تھے
تھرکتا رہتا ہے اکثر دھمال ڈالتا ہے
مکھ اجلا آنکھیں متوالی میرے یار کے لب یاقوتی ھو