دانش نقوی

شاعر

تعارف شاعری

رکھتے ہیں، مگر اتنا زیادہ نہیں رکھتے

رکھتے ہیں، مگر اتنا زیادہ نہیں رکھتے
اس دور میں احساس کا مادہ نہیں رکھتے!!
اک بار جو آجائیں تیرے پاس سے ہوکر
پھر وہ تو کہیں کا بھی ارادہ نہیں رکھتے
ہم لوگ انا باز بھی ہوتے ہیں غضب کے
مانگیں بھی تو دامن کو کشادہ نہیں رکھتے

تم توڑ بھی دو پھر بھی کوئی بات نہیں ہے
ہم دل میں کسی شخص کا وعدہ نہیں رکھتے

کرلیتے ہو اس میں بھی کسی شئے کی ملاوٹ
تم لوگ محبت کو بھی سادہ نہیں رکھتے

دانش نقوی